سعودی حکومت کے ناقد کی سزائے موت 30 سال قید میں تبدیل
سعودی حکومت نے عالمی سطح پر کی جانے والی تنقید کے بعد ریٹائرڈ ٹیچر محمد الغامدی کی سزائے موت کو 30 سال قید میں تبدیل کردیا ہے۔
محمد الغامدی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے شاہی خاندان کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ انہیں جون 2022 میں گرفتار کرنے کے بعد مقدمہ چلایا گیا تھا اور جولائی 2023 میں خصوصی فوجی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی تھی۔
سوشل میڈیا پر غیر معمولی تنقید کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک امریکی نیوز چینل سے گفتگو میں یقین دہانی کرائی تھی کہ انصاف ہوگا۔ اب معلوم ہوا ہے کہ انہی الزامات کے تحت محمد الغامدی کی سزائے موت کو 30 سال قید میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
لندن میں مقیم سعید الغامدی نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ اُن کے ایک اور بھائجی اسدالغامدی کو بھی حکومت پر تنقید کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سعید الغامدی نے بتایا کہ ان کے بھائیوں نے مقید علما سلمان العودہ اور عواد القرنی کی حمایت میں بات کی تھی۔ اس حوالے سے انہوں نے سوشل میڈیا پر جو پوسٹیں لگائی تھیں اُن کی بنیاد پر مقدمات بناکر سزا سنائی گئی۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔