”لوگ بندریا کہا کرتے تھے“ بھارت کی معذور ایتھلیٹ نے ہمت نہ ہاری
پیرس میں پیرا لمپکس مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی بھارتی ایتھلیٹ دیپتی جیوانجی کی کہانی بہت دردناک ہے۔ اُس نے انتہائی نامساعد حالات کو شکست دیتے ہوئے اپنے لیے اور اپنے ملک کے لیے نام کمایا ہے۔
انڈیا ٹوڈے ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے دیپتی جیوانجی نے کہا کہ زندگی میرے لیے کبھی آسان نہیں رہی۔ اپنے ماحول میں مجھے بہت سی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اُس کا کہنا تھا کہ میں جس گاؤں میں پیدا ہوئی وہاں کے لوگ بہت توہم پرست تھے اور ہر معاملے میں شگون اور بدشگونی کا سوچا کرتے تھے۔
دیپتی نے بتایا کہ وہ چاند گرہن کے دن پیدا ہوئی اور معذور تھی تو لوگوں نے باتیں بنائیں اور مجھے منحوس قرار دیتے ہوئے گھر والوں سے کہا کہ مجھ گھر میں نہ رکھیں بلکہ کسی اناتھ آشرم (یتیم خانے) کے حوالے کردیں۔
دیپتی کہتی ہے کہ وہ اپنی معذوری کو کبھی رکاوٹ نہیں سمجھتی تھی اور گھر والوں کی حوصلہ افزائی کی بدولت بہت کچھ کرنا چاہتی تھی۔ اُس نے بہت چھوٹی عمر سے کھیلوں میں حصہ لینا شروع کیا۔
لوگ اُس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ گاؤں کے لوگ اُسے بندریا کہتے تھے کیونکہ وہ اُچھل کود بہت کرتی تھی اور اپنے آپ کو ہر اعتبار سے فٹ رکھنے کے فراق میں رہتی تھی۔
دیپتی جیوانجی نے بتایا کہ اُس نے دن رات ایک کرکے اپنے لیے جگہ بنائی۔ ریاستی اور پھر مرکزی سطح پراپنے آپ کو منوانے کے بعد اُس نے اب عالمی سطح پر بھی اپنی اہلیت منوالی ہے۔
وہ 400 میٹر کی دوڑ میں جیتے جانے والے کانسی کے تمغے کو دو ریاستوں (آندھرا پردیش اور تلنگانا) کے لیے تحفہ گردانتی ہے۔
ریاستی اور قومی سطح پر صلاحیت و سکت منوانے والی دیپتی کو انعامات کی شکل میں اچھی خاصی رقم ملی ہے اور چند ایک اداروں نے بھی اُسے اسپانسر کیا ہے۔ یہ رقم اُس نے اپنے والدین کے لیے زرعی زمین خریدنے پر صرف کی ہے تاکہ اُن کے لیے آمدنی کا مستقبل ذریعہ بنے۔
جب اُس سے پوچھا گیا کہ اُس نے اپنے لیے کیا خریدا ہے تو دیپتی نے بتایا کہ جو کامیابیاں مل چکی ہیں اُن کے بعد اب کچھ خریدنے اور پانے کی تمنا نہیں رہی۔
دیپتی جیوانجی نے 16 جون 2024 کو جاپان کے شہر کوبے میں منعقدہ ورلڈ پیرا ایتھلیٹیکس چیمپین شپس میں 400 میٹر میں سونے کا تمغہ جیت کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔