امریکی ہندو گروپ ٹرمپ کے لیے کُھل کر میدان میں آگیا
امریکا میں بھارتی نژاد ہندوؤں کا ایک بڑا اور با اثر گروپ ’ہندوز فار امریکا فرسٹ‘ ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کُھل کر میدان میں آگیا ہے۔ اس گروپ کے بانی چیئرمین اُتسَو سندوجا کا کہنا ہے کہ کملا ہیرس امریکا کی صدر بنیں تو بھارت سے تعلقات کشیدہ ہوجائیں گی۔
ایک انٹرویو میں اُتسَو سِندوجا کا کہنا تھا کہ کملا ہیرس نے چار سال صدر بائیڈن کے ساتھ ملک کے معاملات دیکھے ہیں مگر وہ بھی اپنے باس کی طرح کچھ کر دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔ اِن چار برسوں میں امریکا میں غیر قانونی تارکینِ وطن کا معاملہ بگڑا ہی رہا ہے۔
اُتسَو سِندوجا کا کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہوئے تو غیر قانونی تارکینِ کے اشو کو کنٹرول کیا جاسکے گا کیونکہ وہ اس حوالے سے غیر لچک دار رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کے ہاتھوں ملک کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے آجروں پر بھی اس حوالے سے غیر معمولی دباؤ ہے۔
ایک سوال پر ہندوز فار امریکا فرسٹ کے بانی سربراہ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر بنے تو بھارت سے تعلقات بحال ہوں گے اور اُن میں گرم جوشی پیدا ہوگی۔ ملک کو پُرجوش قیادت کی ضرورت ہے۔
اُتسَو سِندوجا کا کہنا تھا کہ کملا ہیرس سے یہ امید نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ بھارت سے تعلقات کا گراف بلند کرنے پر توجہ دیں گی۔ ہاں، یہ ہوسکتا کہ وہ بیشتر معاملات لبرل بھیڑیوں کے حوالے کردیں۔ اگر وہ ایوانِ صدر میں داخل ہوئیں تو ملک کے لیے مشکلات بڑھیں گی۔ تارکینِ وطن کے حوالے سے اُن کی ڈھیلی ڈھالی سوچ ملک میں اس اشو کو مزید پریشان کن حد تک لے جائے گی۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔