سپریم کورٹ کی جانب سے اسمبلیاں بحال کرنے اور وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر سابق صدر آصف زرداری کا ردعمل سامنے آگیا۔
مولانا نے کہا کہ عمران خان ملک کے وزیراعظم نہیں رہے نا ان کے کے لیے دوبارہ نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے، ان کی جانب سےلہرایا گیا خط بھی جھوٹ ہے جس میں غیر ملکی مداخلت کےکوئی اثرات نہیں ہیں۔
Supreme court says it will only rule on whether the deputy speaker acted against the constitution in refusing to allow a vote on a no-confidence motion against Khan
Farah and her husband reportedly left for Dubai after the no-trust motion against Prime Minister Imran Khan was dismissed and the National Assembly dissolved
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جمہوریت کے گلے پر چھرا پھیرا ہے، یہ مذہبی بننے کی کوشش کرتا ہے لیکن لفظ 'روحانیت' نہیں بول سکتا، آرمی چیف یا اسٹیبلشمنٹ اسے بطور وزیراعظم تسلیم نہ کرے کیونکہ اب وہ ملک کا وزیراعظم نہیں ہے۔
علیم خان کا کہنا تھا کہ آپ نے واضح شکست دیکھتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل کردیں اگر اسمبلیاں تحلیل کرنی تھیں تو پہلے کردیتے، آپ کیا سمجھ رہے ہیں کہ عوام آپ کے ساتھ ہیں تو یہ غلط فہمی ہے۔