برطانیہ کا افغانستان سمیت چار ممالک پر ویزا پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
برطانیہ نے افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے شہریوں کے لیے اسٹڈی ویزے جاری کرنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ افغان شہریوں کے لیے ورک ویزا پروگرام بھی معطل کردیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اقدام حکومت کی جانب سے ”ایمرجنسی بریک“ کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ ان ممالک سے بڑھتی ہوئی پناہ کی درخواستوں پر قابو پایا جا سکے۔
برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان ان چار ممالک کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے، جب کہ افغان ورک ویزا کے حامل افراد میں بھی پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد اصل ویزوں سے زیادہ ہوگئی ہے۔
اندرونی امور کی وزیر شبانہ محمود نے کہا کہ برطانیہ ہمیشہ جنگ اور ظلم و ستم سے کا شکار ہونے والوں کو پناہ دیتا رہا ہے، مگر ویزا سسٹم کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ”ہماری سخاوت کا غلط فائدہ اٹھانے والوں کے لیے ویزے روکنے کا غیر معمولی فیصلہ ناگزیر تھا۔“
اعداد و شمار کے مطابق قانونی ویزوں پر برطانیہ آنے والے افراد کی پناہ کی درخواستوں میں 2021 کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، اور صرف گزشتہ سال ایک لاکھ درخواستوں میں سے 39 فیصد وہ تھے جو قانونی راستوں سے ملک میں داخل ہوئے تھے۔
حکومت کے مطابق اس وقت لگ بھگ 16 ہزار افراد، جن میں زیادہ تر مذکورہ چار ممالک کے شہری ہیں، اور برطانیہ کے سرکاری اخراجات پر قیام پذیر ہیں، جن میں 6 ہزار سے زائد ہوٹلوں میں مقیم ہیں۔
پناہ گزینوں کی رہائش پر ہونے والا یہ خرچ سالانہ تقریباً 4 ارب پاؤنڈ (5.34 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ چکا ہے۔
نئی پابندیاں 26 مارچ 2026 سے نافذالعمل ہوں گی۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ جب موجودہ نظام مستحکم ہوجائے گا تو ”محفوظ اور قانونی راستوں“ سے پناہ کے لیے مخصوص اور محدود کوٹے پر مبنی منظوری کا نیا طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا۔
برطانوی حکومت 2021 کے بعد سے اب تک 37 ہزار افغان باشندوں کو پناہ دے چکی ہے، جب کہ گزشتہ سال مختلف انسانی بنیادوں پر تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار ویزے جاری کیے گئے۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ برطانیہ کا سیاست سے متاثرہ امیگریشن نظام اب متوازن اور سخت معیار پر مبنی ہوگا تاکہ یورپ کے دیگر ممالک کی طرح ”پُل فیکٹر“ یعنی زیادہ لچکدار پناہ کے قوانین کے تحت غیر قانونی نقل مکانی کو ختم کیا جا سکے۔