شائع 04 مارچ 2026 09:49am

مشرق وسطیٰ کشیدگی: امریکا کی اپنے شہریوں کو فوری مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے کی ہدایت

امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو ایک درجن سے زائد ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق بحرین، مصر، ایران، عراق، مغربی کنارہ، غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہریوں کو کمرشل پروازوں کے ذریعے جَلد از جَلد روانہ ہونے کا کہا گیا ہے۔

تاہم ہفتے سے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد خطے سے کئی کمرشل پروازیں منسوخ یا معطل ہو چکی ہیں، جس سے انخلا میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکا کے اتحادی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار ڈیلن جانسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محکمہ تقریباً تین ہزار امریکی شہریوں سے براہِ راست رابطے میں ہے اور انہیں مدد کے لیے ہاٹ لائن پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایک اور بیان میں محکمہ خارجہ نے کہا کہ نو ہزار امریکی شہری پہلے ہی خطے سے بحفاظت وطن واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ جہاں کمرشل پروازیں دستیاب ہیں وہاں ٹکٹوں کی بکنگ میں بھی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

فلوریڈا کی رہائشی کرسٹا جکناتھ ہک مین، جو امریکی وفاقی ملازم ہیں، نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ان کا سالگرہ کا دورہ اچانک افراتفری میں بدل گیا جب محکمہ خارجہ نے امریکیوں کو فوری روانگی کی ہدایت کی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر کو دبئی ایئرپورٹ پر رات گزارنا پڑی اور اب وہ متحدہ عرب امارات سے عمان بذریعہ سڑک سفر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں آگے کے لائحہ عمل سے متعلق واضح ہدایات نہیں مل سکیں۔

اُدھر دیگر مسافروں نے بھی بتایا ہے کہ انہیں یا تو موجودہ مقام پر ہی رکنا پڑا یا خطے سے نکلنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے پڑے۔

تخمینوں کے مطابق پانچ لاکھ سے دس لاکھ کے درمیان امریکی شہری مشرقِ وسطیٰ میں مقیم ہیں، تاہم درست اعداد و شمار دستیاب نہیں کیونکہ بیرونِ ملک منتقل ہونے والے امریکیوں کے لیے حکام کے پاس رجسٹریشن لازمی نہیں۔

امریکی سفارتخانے نے یروشلم میں بیان دیا کہ وہ اس وقت اسرائیل سے امریکیوں کے انخلا یا براہِ راست مدد کی پوزیشن میں نہیں اور منگل کو سفارتخانہ بند رہے گا۔ بعد ازاں کہا گیا کہ اسرائیل نے مصر کے ساتھ تبا سرحدی گزرگاہ تک شٹل سروس شروع کر دی ہے، تاہم سفارتخانے نے اس راستے کے استعمال کے حق یا مخالفت میں کوئی سفارش نہیں کی۔

منگل کو فرانس نے بھی اعلان کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ خطرے سے دوچار اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے تیار ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ یہ کام کمرشل اور فوجی دونوں پروازوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً چار لاکھ فرانسیسی شہری خطے میں موجود ہیں۔

برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے خطے میں موجود تمام برطانوی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی موجودگی رجسٹر کرائیں تاکہ حکومت انہیں ممکنہ حد تک بہتر معاونت فراہم کر سکے۔ اب تک تقریباً ایک لاکھ دو ہزار برطانوی شہری اپنی رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کے مطابق خطے میں تقریباً تین لاکھ برطانوی شہری موجود ہیں، جن میں سیاح، خلیجی ممالک سے گزرنے والے مسافر اور کاروباری دوروں پر آئے افراد شامل ہیں۔

برطانوی حکومت اس سے قبل بھی بین الاقوامی بحرانوں کے دوران رجسٹریشن اسکیم کے ذریعے شہریوں کو ہنگامی معلومات فراہم کرتی رہی ہے، تاہم اس بار متاثرہ ممالک اور افراد کی تعداد غیر معمولی بتائی جا رہی ہے۔

Read Comments