شائع 04 مارچ 2026 08:59am

آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ ایران کے سپریم لیڈر منتخب، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کرلیا گیا۔ 

اسرائیلی میڈیا کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی مجلسِ خبرگان، جسے انگریزی میں اسمبلی آف ایکسپرٹس کہا جاتا ہے، نے آیت اللہ خامنہ ای کا جانشین منتخب کیا۔ اسرائیلی میڈیا کے اس دعوے کی تصدیق ایران کے سرکاری حکام نے ابھی نہیں کی ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے مجلسِ خبرگان کا اجلاس جاری ہے اور حتمی فیصلے میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید کردیئے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے رہائشی کمپاؤنڈ میں موجود تھے جب حملہ کیا گیا۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد اور پوتی بھی ہلاک ہوئے، جبکہ ان کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ بھی حملے میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ٹیلی گرام پیغام میں کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین مقدس شہر مشہد میں کی جائے گی، جبکہ تہران میں ایک بڑا تعزیتی اجتماع منعقد ہوگا۔ تاہم تدفین کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے باضابطہ طور پر کسی جانشین کا اعلان نہیں کیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد تین رکنی عبوری قیادت کونسل نے ذمہ داریاں سنبھال لیں، جس میں آیت اللہ علی رضا اعرافی، صدر مسعود پزشکیان اور چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ ای شامل ہیں۔ یہ کونسل نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک امور انجام دے رہی تھی۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ کارروائی کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا۔ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تعطل کا شکار مذاکرات اور تہران پر جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے الزامات کے بعد کیے گئے۔ حملوں میں دارالحکومت تہران سمیت کئی ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا گیا اور رپورٹس کے مطابق 700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

مشترکہ حملوں کے چند گھنٹوں بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائل داغے، جن میں سے متعدد خلیجی خطے کے شہروں دبئی، ابوظبی، قطر اور بحرین میں گرے۔ کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایران نے اپنے سپریم لیڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے لیے مذاکرات کے ذریعے جنگ سے بچنے کا وقت گزر چکا ہے۔

منگل کو تنازع کے چوتھے روز دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون حملے کے باعث آگ لگ گئی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کا آئینی اختیار مجلسِ خبرگان کے پاس ہوتا ہے۔ یہ مجلس 88 ممتاز علمائے دین پر مشتمل ہوتی ہے اور اس کے ارکان کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

Read Comments