ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تلاش: بانی انقلاب کے پوتے حسن خمینی کا نام شہ سرخیوں میں
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک حالیہ حملے میں ہلاکت کے بعد اب یہ سوال پوری شدت سے ابھرا ہے کہ ان کا جانشین کون ہوگا۔ اس دوڑ میں ایران کے بانیِ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی کا نام خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ 53 سالہ حسن خمینی اپنے دادا کے پندرہ پوتوں میں سب سے زیادہ معروف ہیں اور انہیں ایرانی نظام کے اندر ایک معتدل شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
حسن خمینی تہران کے جنوب میں واقع اپنے دادا کے مزار کے متولی ہیں اور ان کے سابق صدور محمد خاتمی اور حسن روحانی جیسے اصلاح پسند رہنماؤں سے قریبی تعلقات ہیں۔
اگرچہ انہوں نے کبھی حکومت میں کوئی باضابطہ عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن وہ عوامی زندگی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔
ایران کے اندر کچھ سیاسی حلقے انہیں اُن رہنماؤں کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں جن کا خامنہ ای کے دور میں غلبہ رہا۔
حالیہ برسوں میں ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اب مصلحت پسند حلقوں میں یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ عوامی ناراضی کو کم کرنے کے لیے کسی معتدل شخصیت کو آگے لایا جائے۔
حسن خمینی اگرچہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نظام کے وفادار ہیں، لیکن وہ وقت فوقتاً اصلاحات کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے 2021 میں صدارتی امیدواروں کی جانچ پڑتال کرنے والی کونسل پر اس وقت تنقید کی تھی جب اصلاح پسندوں کو انتخاب لڑنے سے روکا گیا تھا۔
اسی طرح 2022 میں مہسا امینی کی دورانِ حراست موت پر بھی انہوں نے حکام سے شفاف تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم وہ نظام کے اتنے ہی بڑے حامی بھی ہیں، کیونکہ انہوں نے خامنہ ای کے خلاف نعرے لگانے والے مظاہرین کی مذمت کی اور حالیہ ہنگاموں کے دوران حکومت کے حق میں نکلنے والی ریلیوں میں شرکت بھی کی۔
رائٹرز کے مطابق، ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ حسن خمینی ایک روشن خیال عالم دین ہیں جو موسیقی، خواتین کے حقوق اور سماجی آزادیوں کے بارے میں ترقی پسند سوچ رکھتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ مغربی فلسفے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
ان کی اہلیہ آیت اللہ کی صاحبزادی ہیں اور ان کے چار بچے ہیں۔ ماضی میں وہ ایران کے ایٹمی معاہدے کی حمایت کر چکے ہیں اور پابندیوں کی وجہ سے ایرانی عوام کو درپیش معاشی مشکلات پر بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
ایک دہائی قبل انہوں نے اس کونسل کا انتخاب لڑنے کی کوشش کی تھی جو سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے، لیکن اس وقت انہیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔
ناقدین کا خیال ہے کہ ان کی نااہلی کی وجہ ان کی مذہبی قابلیت سے زیادہ سیاسی تھی تاکہ اصلاح پسندوں کو طاقت میں آنے سے روکا جا سکے۔
حسن خمینی کے پاس فی الحال ’حجۃ الاسلام‘ کا مذہبی درجہ ہے جو آیت اللہ سے ایک درجہ کم ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں وہ اصلاحات کی بات کرتے ہیں، وہیں وہ اسرائیل اور امریکا کے بارے میں سخت موقف بھی رکھتے ہیں۔
انہوں نے ماضی میں اسرائیل کو ایک کینسر قرار دیا اور ایرانی میزائل پروگرام کی کھل کر تعریف کی تھی۔
وہ عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور جوانی میں فٹ بال کے بہترین کھلاڑی بھی رہے ہیں، تاہم اپنے دادا کے حکم پر انہوں نے کھیل چھوڑ کر قم کے مدرسے سے دینی تعلیم حاصل کی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران کے طاقتور علما اور پاسدارانِ انقلاب انہیں ملک کے سب سے طاقتور عہدے کے لیے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔