سعودی عرب کی آرامکو آئل ریفائنری پر اسرائیل نے حملہ کیا: ایرانی میڈیا کا دعویٰ
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق نے ایران کے عسکری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملہ اسرائیلی ’فالس فلیگ‘ کارروائی کا حصہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ان حملوں کا مقصد علاقائی ممالک کو گمراہ کرنے کی کوشش اور ایران میں شہری مقامات پر اسرائیلی حملوں سے توجہ ہٹانا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ایران نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ وہ خطے میں تمام امریکی اور اسرائیلی مفادات، تنصیبات اور سہولیات کو نشانہ بنائے گا اور متعدد اہداف پر حملے کیے بھی جا چکے ہیں، تاہم آرامکو آئل ریفائنری ان اہداف میں شامل نہیں ہے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق اسرائیل کے اگلے فالس فلیگ حملے کے اہداف میں متحدہ عرب امارات کے الفجیرہ بندرگاہ کو بھی شامل کیا گیا ہے اور اسرائیل اس پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
آرامکو سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے، جس پر گزشتہ روز ڈرون حملہ ہوا تھا۔
سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ریفائرنری کو نشانہ بنانے والے دونوں ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم ان کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔