اپ ڈیٹ 02 مارچ 2026 11:46pm

امریکا اور اسرائیل کے 500 اہداف پر سیکڑوں ڈرونز اور میزائل حملے کیے: پاسدارنِ انقلاب

پاسدارانِ انقلاب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے  تیسرے روز تک مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ 500 اہداف کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ تیسرے روز تک جاری لڑائی میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ 500 اہداف کو نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان کارروائیوں میں 60 اسٹریٹیجک اہداف اور 500 امریکی فوجی ٹھکانوں اور اسرائیل کے اہداف پر حملے شامل ہیں اور اب تک 700 سے زائد ڈرونز اور سیکڑوں میزائل داغے جا چکے ہیں۔

ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن کے مطابق ایران نے پیر کو اسرائیل کے شہر بیئر شیوا میں میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر داغی، جو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایٹھی نووا نامی امریکی اتحادی ٹینکر پر ہرمز کی تنگی میں دو ڈرون حملے کیے، جس کے بعد ٹینکر ابھی بھی جل رہا ہے۔ جمعہ کو، پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ یو ایس اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پانی کے راستے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا، جو تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ایران کے میزائل حملوں میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا دفتر اور اسرائیلی فضائیہ کمانڈر کا ہیڈکوارٹر بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں خیبر میزائل استعمال کیے گئے۔

اس کے علاوہ تل ابیب میں حکومت کی عمارت، حیفا میں سیکیورٹی اور فوجی مراکز اور مشرقی یروشلم بھی ایران کے میزائل حملوں کی زد میں آئے۔

ادھر امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں میں ایران کی جانب سے تین پاسداران انقلاب کے ارکان اور پانچ ایرانی فوجی مارے گئے لورستان صوبے میں پاسداران انقلاب کے ایک دستے پر حملے میں تین اہلکار اور شہر خرم آباد میں ایرانی فوج کے پانچ ارکان جاں بحق ہوئے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر ایران اور اسرائیل کے درمیان فضائی اور میزائل حملوں نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے، جب کہ عالمی برادری خدشات کا اظہار کر رہی ہے کہ صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

Read Comments