طالبان رجیم نے ریڈ لائن کراس کرکے دیکھ لیا پاکستان کا ردعمل کیسا ہوتا ہے: صدر مملکت
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ طالبان رجیم نے ریڈ لائن کراس کی، پھر دیکھا پاکستان کا رد عمل کیسا ہوتا ہے، ہماری بہادر افواج نے معرکہ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی فتح میں بدل دیا، ملکی خود مختاری اور آئین کی حکمرانی ترجیح ہے۔
پی کو نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، اجلاس کے آغاز پر قومی ترانہ بھی پڑھا گیا جب کہ اجلاس میں صدرمملکت، آص علی زرداری، وزیراعظم شہبازشریف نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی شریک ہوئیں۔ اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے گورنر، وزرائےاعلیٰ بھی گیلری میں موجود تھے۔
مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بھی پولیس کمانڈوز تعینات، پارلیمنٹ ہاؤس کو آنے والے راستوں پر چیکنگ انتہائی سخت کی گئی ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آغاز میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، عرب ممالک پر حملے میں جاں بحق افراد اور سیکیورٹی فورسز کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جب کہ اپوزیشن کی طرف سے صدر کے خطاب کے دوران مسلسل احتجاج کیا گیا، نعرہ بازی کی گئی۔
اس موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ صدر مملکت آصف زرداری نے کہا کہ بطور دو بار منتخب صدر مملکت پارلیمنٹ سے یہ اُن کا نواں خطاب ہے اور ہر خطاب جمہوری تسلسل، آئینی ذمہ داری اور قومی احتساب کی یاد دہانی ہوتا ہے، قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں بلکہ اہم تاریخی موڑ پر بھی ہوتا ہے، اور آج پاکستان ایک ایسے ہی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اتحاد، استحکام اور دانشمندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔جمہوریہ کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ کی بالادستی، حکومت کی ذمہ داری اور مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے۔
آصف زرداری نے قائداعظم محمد علی جناح کے جمہوری اور آئینی ریاست کے وژن، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے متفقہ آئین کی فراہمی اور محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوریت کے لیے لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے گئے اور صدر کا منصب وفاقی اکائیوں کے درمیان پل اور آئین کا نگہبان ہے۔ قومی سلامتی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران ملک کو پیچیدہ چیلنجز کا سامنا رہا، جب بھی قومی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا، پاکستان نے تحمل اور مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں کے جواب میں افواجِ پاکستان نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اور معرکۂ حق میں دشمن کی جارحیت کو تاریخی تذویراتی کامیابی میں بدلا۔
آصف زرداری نے مغربی سرحد پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن اقدام سے واضح کر دیا کہ کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صدر مملکت نے شہدا اور ان کے اہل خانہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہید ایک ایسے خاندان کی نمائندگی کرتا ہے جس نے ملکی استحکام کے لیے عظیم قربانی دی، بطور ریاست ہماری ذمہ داری ہے کہ شہداء کے خاندانوں کی عزت اور وقار کے ساتھ مسلسل کفالت کی جائے، 2025 پاکستان کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا اور عسکری و سفارتی محاذ پر کامیاب حکمت عملی کے ذریعے بیرونی جارحیت کو ناکام بنایا گیا۔ عالمی برادری نے پاکستان کے مؤقف اور ذمہ دارانہ طرز عمل کو تسلیم کیا۔
صدر آصف زرداری نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے مشروط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، جنگ کبھی پہلا آپشن نہیں مگر اپنی خودمختاری اور سرزمین کے دفاع کا حق محفوظ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی کارروائیاں ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی اور انٹیلی جنس بنیاد کارروائیاں جاری رہیں گی۔
آصف زرداری نے افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 پاکستان کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔
خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کی نئی راہیں کھلی ہیں جب کہ چین کے ساتھ تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچے ہیں اور سی پیک مرحلہ دو بنیادی ڈھانچے اور علاقائی روابط میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے خلیجی ممالک، ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا جب کہ آبی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کی حفاظت ایک اسٹریٹجک معاملہ بن چکا ہے۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان اپنے آبی حقوق کا دفاع کرے گا۔
معاشی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ 2022 میں درپیش مشکلات کے بعد حکومتی اقدامات سے اہم معاشی اشاریوں میں استحکام آیا ہے تاہم اب اگلا مرحلہ جامع ترقی، روزگار کے مواقع اور عوام کو براہ راست ریلیف کی فراہمی ہے۔
آصف زرداری نے ٹیکس نظام میں وسعت، شفافیت، توانائی اصلاحات، زرعی ترقی، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور سماجی تحفظ پروگراموں کو ناگزیر قرار دیا جب کہ خواتین کو ڈیجیٹل رسائی، مالی خودمختاری اور تحفظ فراہم کرنا قومی ترجیح قرار دیا گیا۔
آخر میں صدر مملکت آصف زرداری نے پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وفاقی ہم آہنگی، صوبائی خودمختاری، دہشت گردی کے خاتمے، معاشی استحکام اور جمہوری طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے متحد ہو کر کام کیا جائے۔