اپ ڈیٹ 02 مارچ 2026 04:08pm

ایران کے خطے میں موجود تیل کی تنصیبات پر حملے، اسرائیل میں گیس کی پیداوار بند

مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ صورتحال کے باعث نہ صرف جانی و مالی نقصان ہوا ہے بلکہ عالمی فضائی آپریشن بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔

آرامکو ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے اور اس تنصیب پر حملے نے توانائی کے عالمی شعبے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، حکام نے دمام کے قریب واقع راس تنورہ ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم ان کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔

قطر کی وزارت دفاع نے باضابطہ طور پر بتایا ہے کہ ملک کے دو اہم توانائی مراکز کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ڈرون نے مسائید کے علاقے میں واقع بجلی گھر کے پانی کے ٹینک کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرے ڈرون نے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں قطر انرجی کی ایک تنصیب پر حملہ کیا۔ خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اسی دوران عمان کے بحری سلامتی کے مرکز نے اطلاع دی ہے کہ مسقط کے ساحل سے دور ایک تیل بردار بحری جہاز پر بارود سے بھری کشتی کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم میں زوردار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث عملے کا ایک رکن جان کی بازی ہار گیا۔

جہاز پر موجود دیگر اکیس افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جبکہ عمان کی شاہی بحریہ کا ایک جہاز متاثرہ ٹینکر کی نگرانی کر رہا ہے اور دیگر بحری جہازوں کو اس علاقے سے گزرتے ہوئے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب توانائی کی عالمی منڈی میں بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی کمپنی شیوران نے اطلاع دی ہے کہ اسے اسرائیل کی وزارت توانائی کی جانب سے لیویتھن نامی بڑے گیس فیلڈ سے پیداوار عارضی طور پر روکنے کا حکم ملا ہے۔

یہ گیس فیلڈ اسرائیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں سے مصر کو اربوں ڈالر مالیت کی گیس برآمد کی جاتی ہے۔

شیوران کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی تنصیبات فی الحال محفوظ ہیں لیکن حفاظتی اقدامات کے تحت کام بند کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ترکیہ میں ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی خبر ہے جبکہ قبرص میں برطانوی ملٹری بیس کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

اصفہان میں ایک امریکی ڈرون مار گرائے جانے اور کویت میں کئی امریکی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں بھی حملوں کی خبریں ہیں۔ شہر سنندج پر چھ میزائل گرنے کی اطلاع ہے جس میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کا بتایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے گئے اور بیلسٹک میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغے جس کے جواب میں تل ابیب نے بیروت کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔

ان کارروائیوں میں اکتیس افراد کے جاں بحق اور ایک سو انچاس کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حزب اللہ کے رہنما محمد رعد کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

خطے میں جاری اس کشیدگی کے باعث عالمی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔ مختلف ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بارہ سو انتالیس پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر محصور ہیں۔

پاکستان میں بھی گزشتہ تین دن کے دوران پانچ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

Read Comments