امریکہ کے ساتھ کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے: ایران کے سیکیورٹی چیف کا اعلان
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیوں نے خطے کو افراتفری میں دھکیلا اور امریکی فوجیوں کی جان کو خطرے میں ڈالا ہے۔
علی لاریجانی نے پیر کے روز ’ایکس‘ پر بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے اپنے غیر حقیقی اقدامات سے خطے کو انتشار میں مبتلا کیا اور اب امریکی فوجیوں کے مزید جانی نقصان سے خوف زدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے نعرے ’امریکہ فرسٹ‘ کو ’اسرائیل فرسٹ‘ میں بدل دیا اور اسرائیل کی اقتدار کی ہوس کے لیے امریکی فوجیوں کو بھی قربان کر ڈالا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اب اپنی پالیسیوں کی بدنامی کا بوجھ دوبارہ امریکی فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ پر ڈال رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج نے جارحیت کا آغاز نہیں کیا، ایرانی قوم اپنا دفاع کر رہی ہے۔
انہوں نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی حکام نے ٹرمپ انتظامیہ سے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اخبار نے ایران کی جانب سے عمان کے ذریعے امریکا سے مذاکرات پر رضامندی کا دعویٰ کیا تھا۔