شائع 02 مارچ 2026 09:40am

برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ وزیرِاعظم کیئراسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف حملوں میں شریک نہیں تاہم اپنے اتحادیوں کے اجتماعی دفاع کی حمایت کرتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف کارروائی کے لیے برطانیہ کے اڈوں کے استعمال کی درخواست کی تھی جسے منظورکر لیا گیا ہے۔

اپنے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں 2 لاکھ برطانوی شہری موجود ہیں جو ایران کے حملوں کے نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطرے کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میزائلوں کو ان کے ذخیرہ گاہوں یا لانچرز پر نشانہ بنایا جائے، جہاں سے وہ داغے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ ایران پر ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی مستقبل میں ایسے کسی حملے میں شامل ہوگا۔

تاہم برطانوی وزیراعظم نے نے الزام عائد کیا کہ ایران برطانوی مفادات پر حملے کر رہا ہے اور اس کے شہریوں کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے برطانیہ سے زیادہ اقدامات کی توقع کی تھی اور برطانوی شہریوں کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ایران پر حملوں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا، ہمارا ماننا ہے کہ اس تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل خطے اور دنیا کے بہتر مفاد میں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی درخواست کو قبول کرنے کا فیصلہ دوستی اور اتحادیوں کے اجتماعی دفاع اور برطانوی شہریوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق کیا گیا ہے۔


Read Comments