شائع 28 فروری 2026 11:26am

’دہشتگردی بند کرو، پھر بات ہوگی‘: پاکستان کا افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات سے انکار

پاکستان نے واضح اعلان کیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی مکمل طور پر بند نہیں ہوتی، اس وقت تک افغان طالبان سے کسی قسم کا مکالمہ یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔

وزیر اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بات چیت کا کوئی جواز نہیں کیونکہ مسئلے کی جڑ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی ہے۔

پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے مشرف زیدی نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا تب تک نہ کوئی مذاکرات ہوں گے اور نہ ہی کوئی ڈائیلاگ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور غیر متزلزل ہے۔

مشرف زیدی نے کہا کہ افغانستان کے اندر موجود عسکریت پسندی وہاں کی حکومت کا اندرونی معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان کی ذمہ داری صرف اپنے شہریوں اور اپنی سرزمین کا تحفظ کرنا ہے۔

انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر پاکستان کو معلوم ہو کہ کسی مخصوص مقام پر دہشتگرد اور اس کے سہولت کار موجود ہیں تو پاکستان وہاں کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خطرے کو ختم کرے گا۔

ان کے مطابق پاکستان پہلے ہی اپنے اقدامات اور کشیدگی میں کمی کے لیے شرائط واضح کر چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں عدم استحکام کم کرنے کی ذمہ داری صرف افغان طالبان حکومت پر نہیں بلکہ عالمی برادری پر بھی عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین کو سرحد پار دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھی اسی سخت مؤقف کی تائید کی ہے۔

پاکستاں ٹی وی ڈیجیٹل کو دیے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد صرف ایک ہے اور وہ ہے دہشتگرد خطرات کو ختم کر کے قومی سلامتی کو یقینی بنانا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اچھے ہمسائے کا کردار ادا کیا، دوستانہ رویہ اپنایا اور فراخ دلی دکھائی، لیکن اس فراخ دلی کو اکثر کمزوری سمجھا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ فوجی کارروائیاں مطلوبہ نتائج حاصل ہونے تک جاری رہیں گی۔

اس پر وضاحت دیتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ مطلوبہ نتیجہ یہی ہے کہ دہشتگردی کے خطرات مکمل طور پر ختم ہوں اور پاکستان محفوظ ہو جائے۔

جنگ بندی کے امکان کے بارے میں سوال پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور اس مرحلے پر کسی جنگ بندی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے افغان طالبان کی ممکنہ بیرونی حمایت کے حوالے سے بھی شکوک کا اظہار کیا اور کہا کہ طالبان جس نظریے کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ عالمی سطح پر قابل قبول نہیں، اس لیے انہیں کسی بڑی بیرونی پشت پناہی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

Read Comments