آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کے خلاف کارروائیاں: 297 ہلاک، مزید ہیڈ کوارٹرز تباہ
وزارت اطلاعات و نشریات نے آپریشن غضب للحق کی نئی پیشرفت سے آگاہ کیا ہے، جس کے مطابق 27 فروری کی رات 11 بجے تک افغان طالبان کے 297 کارندے ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب پاک فوج نے افغانستان کے صوبہ لغمان میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے طالبان کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس میں ایک بڑا اسلحہ ڈپو، اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر، ننگرہار بریگیڈ اور متعدد مقامات پر چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دیں۔
جمعے کے روز بھی افغانستان سے دہشت گردی اور بلااشتعال جارحانہ حرکتوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن غضب للحق جاری ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ افغانستان بھر میں 29 مقامات پر فضائی کارروائی کر کے اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ اب تک آپریشن غضب للحق میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 297 افغان طالبان مارے گئے جب کہ 450 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ افغان طالبان کی 89 چیک پوسٹیں تباہ جب کہ 18 چیک پوسٹوں پر پاک فوج نے مکمل کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے اور افغان طالبان کے 135 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کردی گئیں ہیں۔
اس سے قبل جمعے کے روز پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاک فوج نے افغانستان میں قائم فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان رجیم نے اسے بنیاد بناکر خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد کے 15 سیکٹر میں 53 مقامات پر فائرنگ کی۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ 53 مقامات پر حملوں کا 53 مقامات سے بھرپور جواب دیا گیا، پاک فضائیہ نے 22 مقامات پر فضائی حملے کیے، جوابی حملوں کے نتیجے میں اب تک 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج مارے جاچکے ہیں، 400 زخمی ہیں، 115 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور اے پی سیز تباہ ہوچکی ہیں، 18 افغان چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں اور 73 پوسٹیں تباہ کرچکے ہیں، ان جگہوں پر دہشت گرد لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران ہمارے 12 جوان شہید اور 27 زخمی ہوئے جب کہ ایک لاپتہ ہے، قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے، معرکہ بنیان المرصوص میں بھارت کی طرح آپریشن غضب للحق میں فوج نے کامیابی حاصل کی۔
خیال رہے کہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے جمعرات کی رات سے بلااشتعال جارحیت اور فائرنگ کے جواب میں افواجِ پاکستان کی ”آپریشن غضب للحق“ کے تحت انتہائی مؤثر اور منہ توڑ جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور طالبان کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا جس میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ کی کارروائی کے نتیجے میں افغانستان کے صوبہ لغمان میں افغان طالبان کا بڑا اسلحہ ڈپو، اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر، ننگرہار بریگیڈ اور ٹینک مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں، ان ٹھکانوں کو سرحدی جارحیت اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے سرحد کے مختلف مقامات پر پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، جس پر پاکستانی مسلح افواج نے فوری اور مربوط ردعمل دیا۔ زمینی سرحدوں پر جاری جھڑپوں کے ساتھ ساتھ فضائی کارروائیوں نے دشمن کی دفاعی لائن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج نے جوابی کارروائیاں جاری دکھتے ہوئے مہمند سیکٹر کے قریب افغان چیک پوسٹ کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر طالبان کی متعدد چیک پوسٹیں جن میں افغان فوجی آریانہ کمپلیکس اور دبگئی چیک پوسٹ بھی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہیں۔ پولیس ہیڈکوارٹر اور ذاکر خیل پوسٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد افغان طالبان فورسز کو چیک پوسٹیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور بلا اشتعال جارحیت کے خلاف بھرپورجوابی کارروائی کے لیے پرعزم ہیں، پاکستانی سیکیورٹی فورسزعالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے صرف افغان فوجی اہداف کو نشانہ بنارہی ہیں، آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔