لاکھوں امریکی شہری اپنا ملک چھوڑ کر کیوں جارہے ہیں؟
دنیا بھر میں بہتر زندگی اور مواقع کی تلاش میں لوگ ملک چھوڑتے ہیں، لیکن امریکا میں صورتحال کچھ منفرد رخ اختیار کر گئی ہے۔ وہ ملک جو ہمیشہ تارکینِ وطن کے لیے بہتری کی سرزمین سمجھا جاتا رہا، اب اپنے ہی شہریوں کی بڑھتی ہوئی بیرونِ ملک ہجرت کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں امریکی اپنے ہی ملک کو چھوڑ کر یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا کا رخ کر رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 2025 میں امریکا میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد سے زیادہ لوگ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ صورتحال کئی دہائیوں بعد پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے اور ماہرین اسے ایک غیر معمولی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
اس رجحان کی سب سے بڑی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں اضافہ ہے۔ رہائش، گھر کا کرایہ، علاج، تعلیم اور دیگر ضروری چیزیں اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ بہت سے لوگوں کے لیے وہاں گزارا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
متوسط طبقے کے لیے بڑے شہروں میں زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں یورپ کے کئی ممالک نرم ویزا قوانین، بہتر سماجی سہولیات اور ٹیکس میں رعایتیں دے رہے ہیں، جس سے امریکی شہریوں کے لیے وہاں منتقل ہونا نسبتاً آسان اور پرکشش بن گیا ہے۔
سیاسی کشیدگی اور سماجی تقسیم بھی ایک اہم وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے دوران سیاسی ماحول میں تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
معیارِ زندگی سے متعلق خدشات بھی لوگوں کے فیصلے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا میں تنخواہیں زیادہ ہیں، مگر یورپ میں صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کا نظام زیادہ مستحکم اور پرسکون ہے۔ والدین خاص طور پر بچوں کی تعلیم اور اسکولوں میں سیکیورٹی کے مسائل پر فکر مند ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی وجوہات امریکا سے ہجرت کا باعث بن رہی ہیں اور پرتگال، آئرلینڈ اور جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک میں امریکی شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدر اور ویزا پابندیوں کو اس رجحان کی وجہ بتایا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی شہری خود بڑی تعداد میں دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔