عدالت سے ریلیف نہ ملا تو عوام سے رجوع کریں گے، علیمہ خان
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ سے ریلیف نہ ملا تو وہ عوام سے اپیل کریں گے۔ ان کے بقول بانی پی ٹی آئی عوام کے لیڈر ہیں اور عوام کو ان کی صحت کے معاملے پر گھروں سے نکلنا چاہیے۔ انہوں نے پرامن احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا ان کا آئینی حق ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے سینئر وکلا پر بڑی ذمہ داری عائد ہونے کا کہا اور مطالبہ کیا کہ علی بخاری، حامد خان اور لطیف کھوسہ جیسے وکلا اپنا کردار ادا کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں وکلا کی بڑی تعداد موجود ہے اور انہیں موجودہ صورتحال میں متحرک ہونا چاہیے۔
انہوں نے کیس کی سماعت میں وقفے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل تاخیر پریشان کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور ان کی ایک آنکھ متاثر ہے۔
علیمہ خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آئندہ سماعت میں جج کے عمرے پر جانے اور پھر اگلی سماعت میں پراسیکیوٹر کے اعتکاف پر بیٹھنے جیسے معاملات سامنے آ سکتے ہیں، جس سے کیس میں مزید تاخیر ہوگی۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے علاج پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جن ڈاکٹروں نے علاج کیا وہ اس شعبے کے ماہر نہیں تھے۔
اس موقع پر عظمیٰ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے دی گئی مشاورت اور میڈیکل رپورٹس عوام کے سامنے لائی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جان بوجھ کر زیادتی کی جا رہی ہے، تاہم وہ ہر طرح کے چیلنج کے لیے تیار ہیں۔
نورین نیازی نے بھی گفتگو میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ پہلے ٹھیک تھی لیکن اب اسے مزید خراب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ میڈیکل رپورٹس چھپائی جا رہی ہیں اور اصل صورتحال سامنے نہیں لائی جا رہی۔
دوسری جانب متعلقہ حکام کی جانب سے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔