شائع 26 فروری 2026 12:20pm

ایران پر حملے کی تیاریاں تیز، مزید امریکی طیاروں کی تعیناتی کے ساتھ نئی پابندیاں عائد

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں مزید تیزی کردی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے مزید چھ ایف-22 ریپٹر لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ بھیج دیے ہیں، جب کہ ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پہلے ہی بحیرہ روم میں موجود ہے، جب کہ امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے۔ خطے میں اس وقت 13 امریکی جنگی بحری جہاز، 9 ڈیسٹرائرز اور 3 ساحلی لڑاکا جہاز موجود ہیں، جس سے خطے میں طاقت کا توازن مزید حساس ہوگیا ہے۔

دوسری جانب پرتگال کے جزیرہ تریسیرا پر واقع امریکی لاجیس ایئربیس پر فوجی طیاروں کی نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جسے مبصرین ممکنہ آپریشنل تیاریوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

ادھر کشیدہ صورتحال کے پیش نظر نیدرلینڈز کی قومی ایئرلائن نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اسی تناظر میں آسٹریلیا نے بھی اپنے شہریوں اور سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو مشرقِ وسطیٰ سے جلد از جلد نکلنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے عائد کی گئی تازہ پابندیوں کے تحت تیس سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ یہ عناصر ایرانی پیٹرولیم کی غیر قانونی فروخت اور اسلحہ سازی میں معاونت میں ملوث ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن کو نہ صرف اپنے مالیاتی نظام کے استحکام کے لیے استعمال کر رہا ہے بلکہ جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے پرزہ جات کے حصول اور دہشت گرد گروہوں کی معاونت میں بھی استعمال کرتا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی برقرار رکھے گی تاکہ اس کی ایٹمی ہتھیاروں کی ممکنہ صلاحیت اور دہشت گردی کی حمایت کو روکا جا سکے۔

Read Comments