ایران امریکا تک مار کرنے والے میزائل بنا رہا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو مستقبل قریب میں امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکا ایران سے واضح الفاظ میں سننا چاہتا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ ایران نے پہلے ہی ایسے میزائل تیار کر لیے ہیں جو یورپ اور امریکا کے فوجی اڈوں کو خطرہ پہنچا سکتے ہیں اور اب وہ ایسے میزائل بنانے میں مصروف ہے جو امریکا تک پہنچ سکیں گے۔
ان کے بقول امریکا چاہتا ہے کہ ایران یقین دہانی کرا دے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، مگر اسے ’وہ خفیہ الفاظ‘ ابھی تک نہیں سنے جو اس یقین دہانی کو واضح کریں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ سال ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد تہران کو واضح طور پر خبردار کیا گیا تھا کہ وہ دوبارہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ان کے مطابق اگر ایران نے اپنے جوہری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کو جاری رکھا تو امریکا مناسب اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا طاقت کے ذریعے امن پر یقین رکھتا ہے، تاہم ایران کے معاملے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا ان کی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران کی قیادت اور اس کے اتحادی گروہوں پر دنیا میں بدامنی پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کا حکم دیا تھا، جسے امریکا خطے میں حملوں کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔
مزید برآں، انہوں نے ایرانی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کو ہلاک کیا اور مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں کیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا نے بعض مواقع پر ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد رکوانے میں کردار ادا کیا۔
دوسری جانب ایران ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت کے حوالے سے بحث اور سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ خطے کی صورتحال پر دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔