’ساڑھے 3 کروڑ لوگ مر سکتے تھے‘: ٹرمپ اپنے سالانہ خطاب میں بھی پاک بھارت جنگ کو نہیں بھولے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اس وقت اپنے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے اور ملک پہلے سے زیادہ مضبوط، امیر اور کامیاب ہے۔ انہوں نے ایک گھنٹہ سینتالیس منٹ تک تقریر کرتے ہوئے کسی بھی امریکی صدر کے سالانہ خطاب کے دورانیے کا ریکارڈ بھی برابر کردیا۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے آغاز میں نائب صدر، وزیرِ خارجہ اور خاتون اوّل سمیت تمام سرکاری شخصیات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ٹرمپ کے خطاب کے دوران بدمزگی بھی دیکھےنے میں آئی۔ ایک ڈیموکریٹ رکن کو ایوان سے نکال دیا گیا جبکہ ایک خاتون رکن خود ٹرمپ کے خطاب کے دوران اٹھ کر چلی گئیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانچ ماہ قبل ہی امریکا نے اپنی آزادی کی 250ویں سالگرہ منائی اور آج ملک ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو انہیں بیمار معیشت اور کئی سنگین مسائل ورثے میں ملے، لیکن ایک سال کے اندر ان کی حکومت نے بے مثال اصلاحات کیں اور حالات بدل دیے۔
اُن کے مطابق بائیڈن دور میں مہنگائی بدترین سطح پر تھی، تاہم اب مہنگائی کم ہو کر 1.7 فیصد تک آ چکی ہے اور ملک برے وقت سے نکل آیا ہے۔
صدر نے کہا کہ اس وقت امریکی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ پر ریکارڈ بنا رہی ہے اور گیس کی قیمتیں بیشتر ریاستوں میں 2.30 ڈالر فی گیلن سے کم ہو چکی ہیں جبکہ بعض مقامات پر یہ 1.99 ڈالر فی گیلن تک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی تیل کی پیداوار میں روزانہ چھ لاکھ بیرل سے زائد اضافہ ہوا ہے اور قدرتی گیس کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ”ڈرل، بے بی، ڈرل“ کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا سے 80 ملین سے زائد بیرل تیل حاصل کیا ہے، جو پہلے متوقع 50 ملین بیرل سے کہیں زیادہ ہے۔
ٹرمپ نے وینزویلا کو ایک نیا دوست اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب امریکا کو وینزویلا کے تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل ہوچکی ہے اور یہ تیل امریکی ریفائنریوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی طاقتور تیل کمپنیوں کی خواہش ہے کہ مستقبل میں 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے تاکہ وینزویلا کی توانائی صنعت کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے، اور منافع کو وینزویلا، امریکا اور کمپنیوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آج امریکا کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں اور گزشتہ نو ماہ کے دوران کوئی غیر قانونی تارکین وطن ملک میں داخل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ قانونی طور پر امریکا آتے ہیں، ہم ان سے محبت کرتے ہیں اور قانونی امیگریشن کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے بعض ممالک کے لیے عارضی تحفظ کی حیثیت ختم کر کے قانونی راستوں کو محدود کیا ہے۔
معاشی میدان میں صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے ایک سال کے دوران 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی جبکہ بائیڈن کے دور میں صرف ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کانگریس سے ٹیکس کٹوتی کی اپیل کی گئی جسے ری پبلکن ارکان نے ممکن بنایا جبکہ ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ٹپ اور اوورٹائم پر ٹیکس ختم کیا اور وہ ممالک جو امریکا سے فائدہ اٹھا رہے تھے، اب ادائیگیاں کر رہے ہیں۔
خطاب کے دوران صدر نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ”افسوسناک“ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے ہوئے صدارتی اختیارات سے تجاوز کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان ٹیرف سے امریکا کو سیکڑوں ارب ڈالر حاصل ہوئے اور قومی سلامتی کے حوالے سے بھی فائدہ ہوا۔
تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ تجارتی قانون کی دفعہ 122 کے تحت 15 فیصد نئے عالمی ٹیرف نافذ کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیرف 150 دن تک نافذ رہ سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں توسیع دینے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا ہر محاذ پر جیت رہا ہے، دشمن خوفزدہ ہیں اور ملک اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے ڈی ای آئی پالیسی ختم کر دی ہے۔
خطاب کے دوران انہوں نے آئس ہاکی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ واشنگٹن ڈی سی کی طرح لاس اینجلس کو بھی محفوظ شہر بنایا جائے گا۔ انہوں نے فوج اور پولیس کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا واپس آ چکا ہے اور یہ تبدیلی تاریخ میں یاد رکھی جائے گی
انہوں نے اسے ”صدیوں کی سب سے بڑی واپسی“ قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعی امریکا کا سنہری دور ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کے حوالے سے بڑے دعوے کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران دنیا بھر میں مجموعی طور پر آٹھ جنگیں رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اُن کے مطابق ایک وقت ایسا آیا تھا جب پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے اور ساڑھے تین کروڑ لوگ مرسکتے تھے، لیکن انہوں نے بروقت مداخلت کر کے اس بڑے خطرے کو ٹال دیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی ان کوششوں کو خود پاکستانی وزیراعظم نے بھی سراہا اور اعتراف کیا کہ امریکی مداخلت سے خطے میں امن برقرار رہا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایران کے حوالے سے بھی سخت موقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کو کسی صورت جوہری طاقت نہیں بننے دے سکتے اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے ماضی میں ایران کی بعض جوہری تنصیبات کو نشانہ بنوایا تاکہ دنیا میں امن قائم رکھا جا سکے۔
تاہم انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ وہ ایران کے مسئلے کو جنگ کے بجائے سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکی صدر نے انسانی حقوق کے حوالے سے بھی اپنا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران میں مظاہرین کو دی جانے والی پھانسیوں کو رکوانے کے لیے بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔
خطاب سے پہلے کانگریس میں ہنگامہ، ال گرین کو ایوان سے نکال دیا گیا
صدر کے خطاب کے دوران ایوان نمائندگان میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب ڈیموکریٹ رکن کانگریس ال گرین کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ 78 سالہ ال گرین نے صدر کی آمد کے موقع پر ایک پلے کارڈ لہرایا جس پر بڑے حروف میں لکھا تھا کہ ”BLACK PEOPLE AREN’T APES!“ یعنی سیاہ فام لوگ بندر نہیں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جب صدر ایوان میں داخل ہو رہے تھے تو ال گرین نے ان کی طرف اپنا سائن اٹھایا، تاہم ری پبلکن ہاؤس میجورٹی لیڈر اسٹیو اسکالیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں سکیورٹی اہلکار ال گرین کو ایوان سے باہر لے گئے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی جس میں سابق امریکی صدر باراک اوباما اور سابق خاتون اول مسیل اوباما کو بندروں کے طور پر دکھایا گیا تھا۔
اس ویڈیو پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا، جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے ویڈیو ہٹا دی۔ صدر نے وضاحت کی کہ یہ ویڈیو ان کے ایک عملے کے رکن نے پوسٹ کی تھی۔
یاد رہے کہ ال گرین وہی رکن کانگریس ہیں جنہوں نے گزشتہ سال بھی صدر کے کانگریس سے خطاب کے دوران آواز بلند کی تھی۔