دوحہ میں پاک-قطر قیادت کی اہم بیٹھک، اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
دوحہ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے دوطرفہ تعلقات، تجارت، توانائی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا اور اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی دوحہ میں اپنے قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے ملاقات کی، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی اور علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطرکے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور سیاسی، اقتصادی اور ادارہ جاتی روابط میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، لیبر، افرادی قوت اور ثقافتی شعبے میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی اور ان تمام شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ ٹاسک فورس کو اہم قرار دیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مشترکہ وزارتی کمیشن اور دو طرفہ سیاسی مشاورت سمیت حالیہ اعلیٰ سطحی مصروفیات اور ادارہ جاتی میکانزم کے دوران کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔
ملاقات میں پاکستان اور قطر کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی موجودہ مسائل پر رابطے میں رہنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔
قبل ازیں، قطر کے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور عشیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی الثانی نے بھی دوحہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران فریقین نے دفاع اور سیکیورٹی میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان جاری تعاون پر اطمینان کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔
شیخ سعود نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے میں قطر کی دلچسپی سے آگاہ کیا۔
ملاقات میں علاقائی بالخصوص ایران اور افغانستان کی موجودہ صورت حال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں اطراف نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات کے تسلسل، کشیدگی میں کمی اور مشترکہ و اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔