شائع 23 فروری 2026 06:56pm

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے علی لاریجانی کو جانشین مقرر کردیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران ممکنہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وسیع تیاریوں میں مصروف ہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے اہم اختیارات بڑی حد تک نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو سونپ دیے ہیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے چھ اعلیٰ حکام، پاسداران انقلاب کے تین ارکان اور دو سابق سفارت کاروں نے بتایا کہ جنوری کے اوائل میں ملک میں مظاہروں اور امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے بعد علی لاریجانی عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں۔

67 سالہ علی لاریجانی ماضی میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر رہ چکے ہیں اور اس وقت سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی نگرانی بھی علی لاریجانی کر رہے ہیں اور سپریم لیڈر کو ان پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔ ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جب اسٹیو وٹکوف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش کی تو اس کے لیے بھی علی لاریجانی سے اجازت طلب کی گئی۔

اخبار کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے چار سطحوں پر مشتمل جانشینی کا نظام بھی ترتیب دے دیا ہے۔ ہر اس فوجی یا سرکاری عہدے کے لیے، جس پر تقرری ان کے اختیار میں ہے، چار چار متبادل افراد نامزد کیے گئے ہیں۔ تمام کمانڈروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ممکنہ جانشینوں کے نام پہلے سے طے کریں۔ اس کے علاوہ سپریم لیڈر نے قریبی ساتھیوں کے ایک محدود حلقے کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر ان سے رابطہ منقطع ہو جائے یا انہیں نشانہ بنایا جائے تو وہ فیصلے کر سکیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کی صورت میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مسلح افواج کی کمان سونپی جا سکتی ہے۔ اگر اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچتا ہے تو عبوری انتظام میں علی لاریجانی سرفہرست ہو سکتے ہیں، جبکہ محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کے نام بھی زیر غور بتائے گئے ہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق ایرانی حکام اس خدشے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ ممکنہ حملے میں سپریم لیڈر اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں خلیج فارس کے ساحلوں پر میزائل نصب کیے جانے اور افواج کو ہائی الرٹ رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ جوہری معاملے پر سفارتی مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے، تاہم ایرانی قیادت بدترین صورتحال کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق ریاستی نظام کے تسلسل کے لیے مختلف منظرنامے تیار کیے گئے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر اعلیٰ قیادت ہلاک ہو جائے تو ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہو گی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ ایرانی قیادت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ اگر ہنگامی صورتحال پیدا ہو تو کون سا رہنما بیرونی دنیا سے مذاکرات کی قیادت کرے گا، جیسا کہ وینزویلا میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے صدر نکولس مادورو کے معاملے میں کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں صدر مسعود پزشکیان بظاہر اہم اختیارات علی لاریجانی کو منتقل کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے، اور ایرانی قیادت دونوں امکانات کو سامنے رکھ کر حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔

Read Comments