اپ ڈیٹ 22 فروری 2026 12:19am

صدر ٹرمپ کا عالمی ٹیرف 10 سے بڑھا کر 15 فی صد کرنے کا اعلان

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا میں درآمد ہونے والی تمام اشیا پر عائد عارضی عالمی ٹیرف کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیں گے۔ ٹیرف میں شامل کئی ملک ایسے ہیں، جو کئی دہائیوں سے امریکا کا استحصال کرتے آ رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں قانونی طور پر نئے اور قابلِ اجازت ٹیرف کا تعین کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی سپریم کورٹ نے معاشی ہنگامی قانون کے تحت نافذ کیے گئے ان کے اہم ٹیرف پروگرام کے خلاف گذشتہ روز فیصلہ دیا تھا۔

عدالت کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے جمعہ کو تمام درآمدات پر فوری طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا حکم دیا تھا، جو پہلے سے لاگو ڈیوٹیز کے علاوہ ہوگا۔

متعلقہ قانون کے تحت صدر کو 150 دن کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم اس اقدام کو قانونی چیلنجز کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹرتھ پر جاری بیان میں کہا کہ وہ فوری طور پر 10 فیصد عالمی ٹیرف کو بڑھا کر قانونی طور پر منظور شدہ 15 فیصد کی مکمل سطح تک لے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک دہائیوں سے امریکا کا استحصال کرتے آئے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق اس 150 روزہ مدت کے دوران ان کی انتظامیہ نئے اور ”قانونی طور پر قابل قبول“ ٹیرف اقدامات متعارف کرانے پر کام کرے گی۔ ٹیرف میں شامل کئی ملک ایسے ہیں، جو کئی دہائیوں سے امریکا کا استحصال کرتے آ رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں قانونی طور پر نئے اور قابلِ اجازت ٹیرف کا تعین کریں گے

واضح رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے دوسرے ملکوں پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے اور ایسے فیصلے ہماری قوم کی توہین ہیں۔ انہوں نے عدالت پر سیاسی دباؤ ہونے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ عدالت کتنی آسانی سے دباؤ میں آ جاتی ہے۔ ایسے فیصلے امریکی قوم کی توہین ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگرممالک سپریم کورٹ کے فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیگر قائم نہیں رہے گی، میں جو چاہوں کر سکتا ہوں، مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے۔

انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کر دیا، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، دیگر ٹیرفس کے علاوہ 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائےگا۔ ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے۔

خیال رہے کہ جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیرقانونی قرارددیتے ہوئے 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ جاری کیا تھا۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کے لیے کانگریس کی واضح اجازت درکار ہے اورآئی ای ای پی اے اس کے لیے اختیارات نہیں دیتا۔

Read Comments