شائع 21 فروری 2026 08:40am

اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ پر بھی قبضہ کر لے تو کوئی اعتراض نہیں: امریکی سفیر

اسرائیل کے لیے نامزد امریکی سفیر مائیک ہُکابی نے ایک حالیہ انٹرویو میں مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی حدود کے حوالے سے انتہائی حساس بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مائیک ہُکابی نے کہا کہ اگر اسرائیل پورے خطے پر پھیل جائے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

مائیک ہُکابی نے اس کی وجہ تاریخی کتابوں میں موجود وہ نظریہ بتایا جس میں ایک وسیع علاقے کو یہودی عوام کا حق قرار دیا گیا ہے۔

انٹرویو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ نیل سے لے کر فرات تک کے علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی حمایت کریں گے، جس میں لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب کے حصے شامل ہیں؟

تو ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل ان تمام پر قبضہ کر لے تو ٹھیک ہوگا۔

واضح رہے کہ ’دریائے نیل سے دریائے فرات تک‘ کا تصور بنیادی طور پر ایک جغرافیائی  اصطلاح ہے جس کا تعلق ’گریٹر اسرائیل‘ کے شدت پسند نظریے سے ہے۔ یہ منصوبہ لبنان سے لے کر سعودی عرب کے صحراؤں اور بحیرہ روم سے لے کر عراق کے دریائے فرات تک کے علاقے پر مشتمل ایک تصوراتی خطہ ہے۔

یہودی مذہب کے ماننے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس خطے پر قبضے جا حق خدا کی طرف سے دیا گیا ہے۔

تاہم، جب میزبان نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تو امریکی سفیر نے اپنے الفاظ کو کسی حد تک سنبھالتے ہوئے کہا کہ اسرائیل خود ایسا نہیں کرنا چاہتا اور ان کا بیان تھوڑا مبالغہ آرائی پر مبنی تھا۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان ممالک کی طرف سے اسرائیل پر حملہ ہوتا ہے اور اسرائیل جنگ جیت کر زمین پر قبضہ کر لیتا ہے تو یہ ایک الگ بحث ہوگی۔

خود کو ایک عیسائی صیہونی اور اسرائیل کا کٹر حمایتی ماننے والے ۔مائیک ہکابی کے اس بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی قوانین کے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عالمی قانون کے مطابق طاقت کے زور پر کسی ملک کی زمین پر قبضہ کرنا غیر قانونی ہے اور حال ہی میں عالمی عدالت انصاف بھی فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

دوسری طرف امریکی محکمہ خارجہ نے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا کہ آیا یہ مائیک ہکابی کی ذاتی رائے ہے یا امریکی حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے۔

امریکی سفیر کو اس سے قبل بھی اپنے متعصبانہ خیالات اور اسرائیل کی حد سے زیادہ حمایت پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

انہوں نے انٹرویو میں عالمی عدالت انصاف اور عالمی فوجداری عدالت جیسے اداروں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور صدر ٹرمپ کی ان کوششوں کی تعریف کی جن کا مقصد ان اداروں کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک سفیر کی جانب سے اس طرح کے بیانات خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

Read Comments