شائع 20 فروری 2026 04:17pm

اے آئی سمٹ تنازع؛ بھارت کی گلوٹیاس یونیورسٹی کی ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے

بھارت میں منعقدہ ’اے آئی سمٹ‘ میں پیش آنے والے واقعے کے بعد گلگوٹیاس یونیورسٹی اس وقت نہ صرف بھارت بلکہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے عالمی نمائش میں چینی روبوٹس کو طلبا کی ایجاد کے دعوؤں پر دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی ہورہی ہے، وہیں اب وضاحتیں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔

بھارت میں منعقد ہونے والی ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو انسانی بھلائی کے لیے استعمال کرنے اور اس کے ذمہ دارانہ پھیلاؤ کے لیے ایک عالمی لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔

اپوزیشن جماعت کے ترجمان پون کھیڑا نے چینی روبوٹ کو بھارتی ایجاد قرار دینے اور سرکاری میڈیا کی جانب سے اس کی تشہیر کو شرمناک قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اس پلیٹ فارم کو ایک ’سستا چائنا بازار‘ بنا دیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ سمٹ بھارت کے لیے اس وقت جگ ہنسائی کا باعث بن گئی جب ایک نجی یونورسٹی نے بیرونِ ملک سے درآمد شدہ ٹیکنالوجیز کو یہ کہہ کر میڈیا کے سامنے پیش کیا کہ یہ سب کچھ یونیورسٹی کے طلباء نے بنایا ہے۔

اس تنازع کی وجہ بننے والی ’گلگوٹیاس یونیورسٹی‘ ریاست اتر پردیش کے شہر گریٹر نوئیڈا کی ایک نجی یونیورسٹی ہے، جس کے اسٹال پر موجود پروفیسر نیہا سنگھ نے ایک ’روبوٹک ڈاگ‘ کو یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسی لینس میں تیار شدہ قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تو مودی حکومت کے وزراء نے بھی اس دعوے کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جسے بعد میں حذف کر دیا گیا تھا۔ تاہم فیکٹ چیکرز نے اس دعوے کو غلط ثابت کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ روبو ڈاگ دراصل چینی روبوٹکس کمپنی ’یونی ٹری‘ کا پراڈکٹ ہے۔

تاہم سمٹ کے دوران گلگوٹیاس یونیورسٹی کی جانب سے چند دیگر ایجادات کو بھی مقامی کہہ کر میڈیا کے سامنے پیش گیا۔

گلگوٹیاس یونیورسٹی کے اسٹال پر موجود نمائندہ نے ایک ’سوکر ڈرون‘ کو بھی یونیورسٹی کی اِن ہاؤس انوویشن (مقامی ایجاد) قرار دیا اور دعویٰ کیا اس کی تمام انجینئرنگ بھارت میں ہی کی گئی ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر اس ڈیوائس کے حوالے سے بھی دعوے کیے جارہے ہیں کہ یہ ڈیوائس چینی مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ تمام معاملہ وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی کی نمائندہ نیہا سنگھ اپنے دعوے سے مُکر گئیں اور مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ روبوٹ بھارت میں تیار کیے گئے ہیں۔

سمٹ میں چینی ساختہ ’روبو ڈاگ‘ سے متعلق غلط دعوے کے بعد یونیورسٹی کا اسٹال خالی کرادیا گیا تھا تاہم ادارے کی جانب سے مسلسل وضاحتیں دی جارہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس وقت قیاس آرائیاں بڑھ گئیں جب پروفیسر نیہا سنگھ کے لنکڈ اِن پروفائل پر اسٹیٹس ’اوپن ٹو ورک‘ نظر آیا، جس سے ان کی ملازمت کے مستقبل پر سوال اٹھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ متنازع بیان دینے والی پروفیسر نیہا سنگھ کو معطل نہیں کیا گیا اور مکمل تحقیقات تک وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گی۔

سوشل میڈیا پر جہاں یونیورسٹی کے حوالے سے مزاحیہ مواد شیئر کر کے مذاق اڑایا جارہا ہے وہیں زیرِ تعلیم طلبا بھی اس واقعے کے بعد مستقبل کے حوالے سے فکر مند نظر آرہے ہیں۔

ایک یوٹیوبر نے گلگوٹیاس یونیورسٹی جا کر طلبا سے ’روبو ڈاگ‘ کے بارے میں سوالات کیے۔

جواب میں ایک طالبعلم نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک کسان کا بیٹا اور مصنوعی ذہانت کا طالبعلم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی ساکھ خراب ہونے کے باعث وہ پریشان ہیں کہ مستقبل میں اچھے ادارے ہمیں نوکریاں دیں گی یا نہیں۔

واضح رہے کہ اس اے آئی سمٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کا مقصد بھارت کو ’گلوبل ساؤتھ‘ (ترقی پذیر ممالک) کے لیے ایک مارکیٹ کے طور پر پیش کرنا ہے تاکہ اے آئی کے فوائد صرف امیر ممالک تک محدود نہ رہیں بلکہ غریب ممالک بھی سستی اور قابلِ رسائی ٹیکنالوجی استعمال کرسکیں۔

اس پانچ روزہ سمٹ میں 110 سے زائد ممالک کے نمائندوں، ٹیک ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے شرکت کی جب کہ چند عالمی رہنماؤں نے آخری وقت پر شرکت سے انکار کردیا۔

درآمد شدہ ٹیکنالوجی کو مقامی کہنے کے دعوؤں، بدانتظامی کی شکایات اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل تنقید کے بعد اس یونیورسٹی کی ساکھ پر سوال اٹھ رہے ہیں ساتھ ہی یہ سمٹ بھی بھارت کے لیے دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا باعث بن گئی ہے۔

Read Comments