ہاکی فیڈریشن کے صدر مستعفی، کپتان پر دو سال کی پابندی لگا دی
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر طارق بگٹی نے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا۔ مستعفی ہونے سے قبل انہوں نے قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ پر دوسال کی پابندی کا بھی اعلان کیا۔
پی ایچ ایف کے صدر طارق بگٹی بدھ کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق بگٹی نے قومی ٹیم کی آسٹریلیا میں ہونے والی بدانتظامی کا ذمہ دار پاکستان اسپورٹس بورڈ کو ٹھہرایا۔
طارق بگٹی نے کپتان عماد بٹ پر 2 سال کی پابندی لگانے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پابندی کے دوران وہ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل ہاکی نہیں کھیل سکیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہاکی فیڈریشن کیلئے 25 کروڑ روپے جاری کیے تھے۔ پرو ہاکی لیگ کیلئے فنڈز پاکستان اسپورٹس بورڈ کو دیئے گئے، آسٹریلیا میں ہوٹل بکنگ کے لیے پاکستان اسپورٹس بورڈ نے رقم وقت پر ادا نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ میں خود اسپورٹس بورڈ کے پاس گیا اور فنڈز ریلیز کرنے کا کہا، مگر انہوں نے کہا کہ دو ماہ لگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ دیئے گئے فنڈز کو مینج کرنے میں ناکام رہا۔
طارق بگٹی نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے درخواست ہے کہ پرو ہاکی لیگ میں ہونے والی بدانتظامی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی جائے اور جو بھی ذمہ دار ہو اسے سزا دی جائے۔
طارق بگٹی نے گفتگو کے دوران اعلان کیا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ فیڈریشن کے پیٹرن اِن چیف وزیراعظم شہباز شریف کو ارسال کر دیا ہے۔
طارق بگٹی نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کی طرح ہاکی فیڈریشن کو بھی مکمل خود مختار ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے وسائل خود پیدا کر سکے۔
واضح رہے کہ قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ نے آسٹریلیا میں ناروا سلوک پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیم مینجمنٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دورۂ آسٹریلیا کے دوران کھلاڑیوں کو مناسب ہوٹل اور معیاری خوراک فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بعض مواقع پر کھلاڑی خود کھانا پکانے اور کپڑے دھونے پر مجبور رہے لہٰذا موجودہ انتظامیہ کے ساتھ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا ممکن نہیں۔