اپ ڈیٹ 19 فروری 2026 12:25pm

کراچی میں سحری کے وقت سلنڈر دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 16 ہوگئی

کراچی کے علاقے سولجر بازار گل رانا کالونی کی ایک رہائشی عمارت میں سحری کے وقت گیس لیکیج سے دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 16 تک پہنچ گئی ہے۔ حادثے میں زخمی ہونے والے 14 افراد زیرِ علاج ہیں۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کی چھت گر گئی اور ملبے تلے کئی افراد دب گئے۔

ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ افسر ڈاکٹر عابد جلال الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ عمارت تین منزلہ تھی اور ہر منزل پر ایک کمرہ قائم تھا۔ دھماکے کے بعد عمارت کا بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کی گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے بھاری مشینری کو موقع پر پہنچانے میں دشواری کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق اب تک ملبے سے 16 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں ایک خاتون اور ایک 10 سالہ بچی بھی شامل ہے۔ بچی کی شناخت نازیہ کے نام سے ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ 14 زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے ایک اور بچی کو زندہ نکالنے میں کامیابی حاصل کی جسے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔

ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر واجد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا عمارت کی پہلی منزل پر ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی وجہ گیس سلنڈر یا گیس کھینچنے والی مشین ہو سکتی ہے، تاہم حتمی وجہ کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے اور اسی لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

بریگیڈیئر واجد کے مطابق ریسکیو ٹیموں کی جانب سے خصوصی آلات کی مدد سے لوہے کے ڈھانچے کو کاٹ کر ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹی عمارتوں میں کام کرنے کے لیے مخصوص اوزار استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ زندہ فرد کو نقصان نہ پہنچے۔

مقامی افراد کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس اور دیگر ادارے بھی موقع پر موجود ہیں جبکہ متاثرہ عمارت کے ملبے کو مکمل طور پر ہٹانے تک امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

Read Comments