جوانی کا راز روزے میں؟ دبئی کے ڈاکٹر کا انکشاف
رمضان میں مسلمان دن بھر کھانے سے پرہیز کرتے ہیں اور اب ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ اس کا فائدہ صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی بھی ہے۔
روزہ رکھنے سے جسم کو کھانے سے آرام ملتا ہے اور یہ خراب یا پرانے خلیات صاف کرنے، سوزش کم کرنے اور جسم کی مرمت کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس طرح روزے سے نہ صرف وزن اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے بلکہ صحت مند عمر کے لیے بھی مدد ملتی ہے۔
رمضان ایک سالانہ ”ری سیٹ“ کی طرح کام کرتا ہے، جو جسم اور دماغ کو تازہ اور چست رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ڈاکٹر راحت غضنفر، فیملی میڈیسن کنسلٹنٹ، لونجیویٹی کلینک، شیخ شخبوط میڈیکل سٹی، بتاتی ہیں، ’روزے کے دوران جسم مستقل کھانے اور شوگر کے اثرات سے دور رہتا ہے۔ چند گھنٹے بغیر کھانے کے بعد، جسم اپنی چربی استعمال کرنا شروع کرتا ہے اور خراب یا پرانے خلیات صاف ہوتے ہیں۔ یہ سوزش کم کرتا ہے اور جسم مرمت پر فوکس کرتا ہے، جو عمر بڑھنے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔‘
عمر رسیدگی کا اندازہ صرف ظاہری شکل سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اہم ہے کہ خون میں شوگر، کولیسٹرول، پٹھے اور ہڈیوں کی صحت، دل اور ہارمونز کا توازن ٹھیک رہے۔
روزہ رکھنے سے جسم کے مرمت کے عمل فعال ہوتے ہیں، جو صرف کم کھانے سے نہیں ہوتے۔ اس لیے کھانے کا وقت اور وقفہ دونوں اہم ہیں۔
روزے کے دوران انسولین کم ہوتی ہے، جو ذیابیطس اور وزن کے مسائل سے بچاتی ہے۔ گروتھ ہارمون بڑھتا ہے، جس سے پٹھے مضبوط رہتے ہیں اور جسم کی مرمت ہوتی ہے۔ سوزش بھی کم ہوتی ہے، جس سے ہاضمہ بہتر اور دماغ صاف محسوس ہوتا ہے۔
روزہ جلد یا پٹھوں کو براہ راست بہتر نہیں کرتا۔ اگر پروٹین اور ورزش مناسب نہ ہوں تو زیادہ روزے سے پٹھے کمزور ہو سکتے ہیں۔ ظاہری فرق زیادہ تر بہتر ہاضمہ اور وزن کم ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
روزے کے اثرات عمر، جنس، صحت اور تناؤ کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ نوجوان اور صحت مند افراد روزہ آسانی سے رکھ پاتے ہیں، جبکہ بزرگوں اور خواتین کو غذائیت اور پٹھوں کی حفاظت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
اگر رمضان کے بعد بھی صحت مند عادات برقرار رکھی جائیں، جیسے رات کو دیر سے نہ کھانا، کھانے کے وقفے اور مناسب نیند تو روزے کے فوائد طویل مدتی رہتے ہیں۔
کلیولینڈ کلینک ابوظہبی کی ڈاکٹر نورس ابوحمیدہ کہتی ہیں، روزہ جسم کو آرام کا موقع دیتا ہے، انسولین کم ہوتی ہے اور جسم چربی استعمال کرنا شروع کرتا ہے۔ یہ میٹابولک اور دل کی صحت بہتر بناتا ہے، جو صحت مند عمر کے لیے اہم ہے۔
روزہ صرف کھانے سے پرہیز نہیں بلکہ جسم اور دماغ کے لیے ایک سالانہ ری سیٹ ہے۔ اگر صحت مند عادات کے ساتھ ان معمولات کو جاری رکھا جائے تو یہ نہ صرف وزن اور ہاضمہ بہتر کرتا ہے بلکہ عمر رسیدگی کے عمل کو بھی سست کر سکتا ہے، جسم کو چست اور ذہن کو صاف رکھتا ہے۔