امریکا نے بحرہند میں ایک اور آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا
امریکی افواج نے بحر ہند میں ایک تیل بردار جہاز پر چڑھائی کرتے ہوئے اسے روک لیا ہے، جو کیریبین میں عائد امریکی ناکہ بندی سے بچ کر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پینٹاگون کے مطابق پانامہ کے پرچم تلے چلنے والا جہاز ویرونیکا III نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا سے وابستہ پابندی شدہ بحری جہازوں کے خلاف لگائی گئی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کی۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز نے اس جہاز کا کیریبین سے بحر ہند تک تعاقب کیا اور بالآخر اسے روک لیا۔ اس موقع کی ویڈیو بھی جاری کی گئی، جس میں امریکی اہلکار ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز پر اترتے دکھائی دیتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق وینزویلا کئی برسوں سے تیل پر امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور خام تیل عالمی منڈی تک پہنچانے کے لیے نام نہاد “شیڈو فلیٹ” استعمال کی جاتی رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ویرونیکا III نے 3 جنوری کو وینزویلا چھوڑا تھا اور اس پر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل اور فیول آئل موجود تھا۔ ٹینکر ٹریکنگ اداروں کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ماضی میں روسی، ایرانی اور وینزویلا کے تیل کی ترسیل میں بھی استعمال ہو چکا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا پہلے ہی اردن اور عراق کی سرحد کے قریب واقع علاقوں میں سرگرم ہے اور گزشتہ ہفتے اسی طرز پر اکیلا II نامی ایک اور جہاز کو بھی روکا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اب تک کم از کم نو بحری جہاز تحویل میں لیے جا چکے ہیں، تاہم عالمی سطح پر پابندی شدہ ایسے جہازوں کی تعداد کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے حال ہی میں کہا کہ وینزویلا سے ضبط کیے گئے تیل کی فروخت سے ایک ارب ڈالر سے زائد رقم حاصل ہو چکی ہے، جبکہ آئندہ مہینوں میں مزید اربوں ڈالر متوقع ہیں۔
دوسری جانب پاناما میری ٹائم اتھارٹی نے بتایا ہے کہ ویرونیکا III کو دسمبر 2024 میں پاناما کے رجسٹر سے خارج کر دیا گیا تھا۔ پینٹاگون نے واضح نہیں کیا کہ آیا اس جہاز کو باضابطہ طور پر امریکی تحویل میں لیا گیا ہے یا نہیں، تاہم کہا گیا ہے کہ مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں امریکا کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنانا اور وینزویلا کی تیل برآمدات کو محدود کرنا ہے۔ ان اقدامات کو عالمی بحری تجارت اور خطے کی سیاست پر اثر انداز ہونے والی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔