شائع 15 فروری 2026 03:51pm

امریکا پابندیاں اٹھانے پر سنجیدگی دکھائے تو جوہری معاہدے پر سمجھوتہ ممکن ہے: ایران

ایران نے ایک بار پھر عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ پابندیاں اٹھانے پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو تو وہ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے لچک دکھا سکتا ہے۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر امریکی حکام سنجیدگی دکھائیں تو ایران سے معاہدے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ تہران نے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کی پیشکش کی ہے جو اس کی جانب سے سمجھوتے کی آمادگی کا ثبوت ہے۔

یہ سطح ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھی جاتی ہے، جس کے باعث خدشات پیدا ہوئے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم ایران اس الزام کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے، اسے ثابت کرنا ہے کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اگر وہ سنجیدہ ہے تو ہم یقیناً کسی سمجھوتے کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے، اسے ثابت کرنا ہے کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اگر وہ سنجیدہ ہے تو ہم یقیناً کسی سمجھوتے کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں تعطل ایران کی وجہ سے ہے۔ ہفتے کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں تاہم ایران کے ساتھ ڈیل کرنا بہت مشکل ہے۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران پر حملے کرسکتا ہے جبکہ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان فروری کے اوائل میں عمان میں مذاکرات ہوئے تھے۔ مجید تخت روانچی نے تصدیق کی کہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہوگا۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان اب تک کی بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا، دوسری جانب صدر ٹرمپ بھی ان مذاکرات کو مثبت قرار دے چکے ہیں۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کے مؤقف کو دہرایا۔ مذاکرات میں اس نکتے کی شمولیت اسرائیل کا اہم مطالبہ رہا ہے۔ امریکی حکام بشمول مارکو روبیو بھی معاہدے میں اس معاملے اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کو شامل کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔

مجید تخت روانچی کا کہنا تھا کہ جب ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملے ہوئے تو ہمارے میزائل ہی ہمارے دفاع کا ذریعہ تھے۔ دفاعی صلاحیتوں سے دست برداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ ایران مسلسل یہی مؤقف اپناتا آیا ہے کہ اس پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو جائز ہدف سمجھا جائے گا۔

امریکی فوج کی خطے میں تعیناتی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام خطے کے ممالک سے مسلسل رابطے میں ہیں اور سب جنگ کی مخالفت پر متفق اور صدر ٹرمپ کو جنگ سے گریز کا پیغام دے چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران سفارت کاری کے ذریعے پیش رفت کا خواہاں ہے تاہم سو فیصد یقین نہیں کیا جاسکتا، اس لیے چوکنا رہنا ضروری ہے۔

مجید تخت روانچی کا کہنا تھا کہ ایران جنیوا میں ہونے والے اگلے دور میں بہتر حل کی امید کے ساتھ شریک ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے، لیکن دوسرے فریق کو بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سنجیدہ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو ٹرمپ ان سے ملاقات کے لیے تیار ہوں گے۔

مارکو روبیو نے مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے فیصلے کو احتیاطی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے بڑا تنازع پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔

Read Comments