شائع 15 فروری 2026 10:57am

آج کے میچ کی کمائی سے پاکستان اور بھارت کو کتنا حصہ ملے گا؟

دنیا بھر میں کرکٹ کے شائقین کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، لیکن یہ مقابلہ صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ مالی لحاظ سے بھی انتہائی منافع بخش سمجھا جاتا ہے۔

ان دونوں روایتی حریفوں کا ٹاکرا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی کے لیے سب سے زیادہ آمدن پیدا کرنے والا ایونٹ مانا جاتا ہے۔

اندازوں کے مطابق ایک پاک بھارت میچ کی تجارتی مالیت تقریباً 200 سے 250 ملین امریکی ڈالر یعنی تقریباً 56 سے 70 ارب پاکستانی روپے تک ہو سکتی ہے۔

عالمی کرکٹ کی آمدن میں بھارت کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی کرکٹ سے حاصل ہونے والی آمدن کا 70 فیصد سے زائد حصہ بھارت سے آتا ہے۔ اسی وجہ سے بھارتی کرکٹ بورڈ، بی سی سی آئی، آئی سی سی کی سالانہ آمدن میں سب سے بڑا حصہ حاصل کرتا ہے۔

آئی سی سی کے موجودہ چار سالہ مالیاتی دورانیے 2024 سے 2027 کے دوران بی سی سی آئی کو عالمی ادارے کی کل آمدن کا تقریباً 38.50 فیصد حصہ ملنے والا ہے۔

یہ شرح اتنی زیادہ ہے کہ انگلینڈ، آسٹریلیا، پاکستان، نیوزی لینڈ، سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے مجموعی حصے سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

اس تناسب کے تحت بی سی سی آئی کو آئی سی سی کی آمدن سے تقریباً 65 ارب پاکستانی روپے ملیں گے۔

اس کے مقابلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ، پی سی بی، کو آئی سی سی کی آمدن میں 5.75 فیصد حصہ ملتا ہے، جو تقریباً ساڑھے 9 ارب پاکستانی روپے کے برابر بنتا ہے۔ یوں دونوں بورڈز کے درمیان آمدن کے فرق میں واضح تفاوت دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک بھارت میچ کی مقبولیت، ناظرین کی بڑی تعداد اور اشتہاری آمدن کے باعث دونوں ٹیمیں مالی طور پر فائدہ اٹھاتی ہیں، کیونکہ اس ایک مقابلے سے نشر و اشاعت اور اسپانسرشپ کی مد میں بھاری رقم حاصل ہوتی ہے۔

یوں پاک بھارت مقابلہ نہ صرف کھیل کے میدان میں سنسنی پیدا کرتا ہے بلکہ مالی لحاظ سے بھی عالمی کرکٹ کی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جہاں دونوں ممالک کی کارکردگی اور اثر و رسوخ نمایاں نظر آتا ہے۔

Read Comments