گووندا نے پاکستان مخالف فلموں میں کام سے انکار کیوں کیا؟
بولی ووڈ کے نامور اداکار گووندا نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ماضی میں ایسی فلموں میں کام کرنے سے انکار کیا جس میں کسی قوم کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی ہو۔
حال ہی میں میوزک ریئلٹی شو ’انڈین آئیڈل‘ کے دوران کی گفتگو پرمبنی گووندا کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
اس کلپ میں گووندا کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ انہیں بلاک بسٹر فلم ’غدر ایک پریم کتھا‘ میں مرکزی کردار کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم اس فلم میں موجود مکالموں کی وجہ سے انہوں نے یہ کردار قبول نہیں کیا۔
گوندا کے مطابق وہ کبھی بھی ایسی فلم کا حصہ نہیں بنتے جس میں کسی ملک کے خلاف توہین آمیز گفتگو شامل ہو۔
ان کے اس بیان پر شو کے دیگر ججز اور مہمان حیران رہ گئے، جبکہ سوشل میڈیا پر خاص طور پر پاکستانی صارفین نے ان کے مؤقف کو سراہا۔
متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ گوندا ہمیشہ محبت اور مثبت پیغام کے حامی رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان میں بھی بے حد مقبول ہیں۔
یاد رہے کہ گوندا 1990 کی دہائی میں کامیڈی، رومانوی اور فیملی فلموں کے ذریعے شائقین کے دلوں پر راج کرتے رہے۔
ان کی مشہور فلموں میں ’حسینہ مان جائے گی‘،’دلہے راجا‘، ’ساجن چلے سسرال‘، ’ہیرو نمبر ون‘ اور ’راجا بابو‘ شامل ہیں۔