چین میں سڑک کا بڑا حصہ زمین میں دھنس گیا: واقعے کی ویڈیو وائرل
چین کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر شنگھائی میں لیان روڈ کے ایک مصروف چوراہے پر سڑک کا بڑا حصہ اچانک دھنس گیا، جس کے نتیجے میں ایک وسیع سنک ہول بن گیا۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی اور شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
گلف نیوز کے مطابق یہ واقعہ 12 فروری کو پیش آیا۔ عینی شاہدین کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پہلے سڑک پر دراڑیں پڑتی ہیں اور پھر زمین کا حصہ اچانک بیٹھ جاتا ہے۔ موقع پر موجود افراد نے بھاگ کر خود کو محفوظ کیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے کی بنیادی وجہ ایک روز قبل رپورٹ ہونے والا پانی کا رساؤ تھا۔ 11 فروری کو جیا من میٹرو لائن کے قیکسن روڈ اسٹیشن پر شیلڈ ٹنلنگ کے دوران زیر زمین پانی ٹنلنگ سائٹ پر داخل ہو گیا تھا۔ منصوبے پرچائنا ویلوے ٹنل گروپ بطور ٹھیکیدار کام کر رہا تھا، اور یہ واقعہ تقریباً صبح ساڑھے دس بجے پیش آیا۔
منصوبے سے وابستہ کمپنی نے ایک نوٹس میں کہا کہ مقامی سطح پر رساؤ کا مسئلہ سامنے آیا تھا جس کے بعد فوری ہنگامی اقدامات کیے گئے، اور اس مرحلے پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
بعد ازاں سڑک کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا، تاہم اسی علاقے میں زمین اچانک بیٹھ گئی اور ایک گہرا گڑھا بن گیا۔ سنک ہول میں عارضی ورک سائٹ شیڈ، لیمپ پوسٹ اور سڑک کے کچھ حصے گر گئے۔
شہری حکام نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔ شنگھائی شینٹونگ میٹرو گروپ کے مطابق متاثرہ مقام وہی تھا جہاں ایک دن قبل پانی کے رساؤ کی اطلاع ملی تھی۔ علاقے کو مکمل طور پر بند کر کے تحقیقات اور مرمت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
فوری طور پر زمین کو مستحکم کرنے کے لیے کنکریٹ ڈالے گئے جبکہ احتیاطاً قریبی دفاتر اور رہائشی عمارتوں کو عارضی طور پر خالی کرا لیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق شنگھائی کی زمین نرم اور آبی تلچھٹ پر مشتمل ہے، جس کے باعث یہاں زمین دھنسنے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں زیر زمین تعمیرات یا پانی کے بہاؤ میں تبدیلی ہو۔ رپورٹس کے مطابق پائپ لائن کی خرابی، ڈھیلی ریتیلی تہیں اور پرانا انفراسٹرکچر ایسے حادثات کی عام وجوہات میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ جنوری 2024 میں بھی اسی شہر میں سیوریج پائپ پھٹنے کے باعث ایک سڑک تقریباً 10 میٹر تک دھنس گئی تھی، تاہم اس واقعے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے تک نگرانی اور بحالی کا عمل جاری رہے گا۔