عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی ہے: ’فرینڈ آف کورٹ‘ کی رپورٹ
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت اور اڈیالہ جیل میں سہولیات سے متعلق رپورٹ منظرِ عام پر آگئی ہے۔ یہ رپورٹ عمران کو جیل میں ملنے والی سہولیات، ان کی صحت اور جیل کے دورے کی روشنی میں مرتب سفارشات پر مشتمل ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد باقی رہ گئی ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور جیل میں ملنے والی سہولیات سے متعلق سپریم کورٹ کے مقرر کردہ عدالتی معاون (فرینڈ آف کورٹ) بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔
سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا اور انہیں عمران خان کی صحت اور جیل میں سہولیات سے متعلق تحریری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے جمعرات کو عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا کہ وہ عدالتی حکم پر تقریباً دوپہر2 بجے اڈیالہ جیل پہنچے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے اصرار کیا کہ احاطے کا معائنہ کرنے سے قبل وہ عمران خان سے ملاقات کریں۔ چنانچہ ایک کانفرنس روم میں ملاقات کا اہتمام کیا گیا جو 2 بج کر 35 بجے منٹ پر شروع ہوئی، جس میں جیل حکام بھی موجود تھے۔
سلمان صفدر کے مطابق انہوں نے عمران خان کو آگاہ کیا کہ وہ عدالتی حکم پر بطورِ فرینڈ آف کورٹ ان کے حالات کا جائزہ لینے آئے ہیں۔ یہ ملاقات شام ساڑھے بجے تک جاری رہی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ اڈیالہ جیل منتقلی کے بعد سے انہیں مخصوص سیل میں رکھا گیا ہے جہاں وہ قیدِ تنہائی کاٹ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ان کی بینائی میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ اکتوبر 2025 تک انکی آنکھیں بالکل ٹھیک تھیں جس کے بعد دھندلاہٹ محسوس ہونے لگی اور بارہا شکایت کے باوجود جیل حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بعد ازاں ان کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک مکمل ختم ہو گئی۔
فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر کے مطابق انہوں نے عمران خان کا میڈیکل طلب کیا تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ میڈیکل ریکارڈ ان کے پاس نہیں بلکہ فیملی اور سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ بعد ازاں انہیں 6 فروری 2026 کی ایک رپورٹ فراہم کی گئی، لیکن اس میں بیماری کی مکمل تفصیلات موجود نہیں تھیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پمز اسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا اور بتایا کہ خون جم جانے کی وجہ سے ان کی آنکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ علاج کے باوجود اب ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
سلمان صفدر نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ملاقات کے دوران انہوں نے نوٹ کیا کہ عمران خان آنکھ کی وجہ سے شدید کرب میں تھے اور بار بار ٹِشو پیپر سے اپنی آنکھیں صاف کر رہے تھے۔
عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولیات سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انکے معمولات میں صبح کے وقت ناشتہ، تلاوتِ قرآن، جسمانی ورزش جبکہ شام کے وقت چہل قدمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ شام ساڑھے 5 بجے سے صبح 10 بجے تک انہیں سیل میں رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں عمران خان کو فراہم کی جانے والی کھانے پینے کی اشیاء کی تفصیلات کے علاوہ، سیل میں موجود تمام سہولیات اور وہاں میسر ماحول کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ عمران خان جیل میں حفاظتی اقدامات، کھانے پینے کی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر مطمئن ہیں۔
عمران خان نے وکلاء اور فیملی سے ملاقات نہ کرائے جانے کا شکوہ کیا اور بتایا کہ صرف ان کی صرف اہلیہ سے ہفتے میں ایک مرتبہ 30 منٹ کے لیے ملاقات کرائی جاتی ہے۔
فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر کے مطابق انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کے سیل کا دورہ کیا۔ رپورٹ میں انہوں نے بتایا ہے کہ عمران خان کے لیے مخصوص سیل میں دھوپ اور ورزش کے لیے گرین ایریا، کچن، چہل قدمی کے لیے کھلا صحن اور سیل 100 کتابیں موجود ہیں۔
انہوں نے رپورٹ میں لکھا کہ انکے سیل میں موجود ٹی وی کام نہیں کرتا اور گرمی کے موسم میں سیل کے اندر مچھروں اور کیڑوں کی بہتات کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اسکے علاوہ سیل میں ریفریجریٹر نہ ہونے کی بھی شکایت کی گئی ہے۔
سلمان صفدر نے تمام مشاہدات کی روشنی میں سفارشات کو بھی اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔ انہوں نے سفارش کی کہ عمراں خان کی بینائی کے معاملے پر میڈیکل بورڈ سے ان کا معائنہ کروایا جائے۔ ٹی وی کو ٹھیک کروایا جائے اور کتابوں کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
اسکے علاوہ ان کی وکلاء تک بلا تعطل رسائی، اہلِ خانہ سے ملاقات یا گفتگو اور سیل سے مچھروں اورحشرات کے خاتمے اور بنیادی ضرورت کی اشیاء فراہم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
اس سے قبل سپریم کورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ اسی کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر کی عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں رپورٹ کی سفارشات پڑھ کر سنائیں اور استدعا کی کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے۔ تاہم عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کروانے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کی آنکھ کے معائنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کی ایک ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کی آنکھ کا چیک اپ 16 فروری سے پہلے مکمل کیا جائے۔
اس کے علاوہ عدالت نے عمران خان کو کتابیں فراہم کرنے کی بھی اجازت دی تاکہ وہ مطالعہ جاری رکھ سکیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو اپنے بچوں سے فون پر بات کروانے کی بھی ہدایت دی اور کہا کہ یہ عمل بھی 16 فروری سے پہلے مکمل کیا جائے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔