موت کے بعد آپ کے فیس بک اکاؤنٹ کا کیا ہوگا؟ نئے فیچر کی دلچسپ تفصیلات
موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟ یہ سوال صدیوں سے انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا آیا ہے لیکن، ٹیکنالوجی کی دنیا میں اب ایک نیا سوال زیر بحث ہے کہ اگر کوئی شخص دنیا سے چلا جائے تو اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا کیا بنے گا؟
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک خبر کے مطابق میٹا نے ایک ایسا پیٹنٹ حاصل کیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی شخص کی آن لائن موجودگی کو اس کی غیر موجودگی میں بھی برقرار رکھ سکتا ہے۔
کاروباری جریدے بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق میٹا کو دسمبر 2025 میں ایک پیٹنٹ دیا گیا جس کی درخواست 2023 میں جمع کرائی گئی تھی۔ یہ پیٹنٹ کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اینڈریو بوس ورتھ کے نام سے منسوب ہے۔
اس میں ایک ایسے نظام کی وضاحت کی گئی ہے جو بڑے لینگویج ماڈل کی مدد سے کسی صارف کے آن لائن رویے کو نقل کر سکتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص سوشل میڈیا سے طویل عرصے کے لیے غائب ہو جائے یا اس کا انتقال ہو جائے تو مصنوعی ذہانت اس کے انداز میں پوسٹس کرنے، تبصرے کرنے یا ردعمل دینے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔
پیٹنٹ کی تفصیلات کے مطابق یہ سسٹم صارف کے ماضی کے ڈیٹا پر تربیت حاصل کرے گا، جس میں اس کی پرانی پوسٹس، تبصرے، لائکس اور دیگر سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ ان معلومات کی بنیاد پر ایک ایسا ڈیجیٹل ماڈل تیار کیا جا سکتا ہے جو اس شخص کے طرزِ گفتگو اور آن لائن عادات سے مشابہ ہو۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
پیٹنٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی صارف اچانک پلیٹ فارم سے غائب ہو جائے تو اس کے دوستوں اور فالوورز پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ اور اگر وہ شخص وفات پا چکا ہو تو یہ غیر موجودگی مستقل ہو جاتی ہے، جس سے جذباتی اور سماجی خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں کمپنی کا خیال ہے کہ ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام اس خلا کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے۔
اس تصور کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ”گریِف ٹیک“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے جس میں ایسی ایپس اور سروسز شامل ہیں جو کسی مرحوم شخص کی یاد کو ڈیجیٹل انداز میں محفوظ رکھنے یا اس کی نقل تیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس سے پہلے بھی چند کمپنیاں اس میدان میں کام کر چکی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2021 میں ایک ایسے چیٹ بوٹ کا پیٹنٹ حاصل کیا تھا جو کسی فوت شدہ شخص کی شخصیت کو ڈیجیٹل انداز میں پیش کر سکتا ہے۔ اسی طرح کچھ نجی کمپنیاں صارفین کو یہ سہولت دیتی ہیں کہ وہ اپنے پیاروں کی یاد میں ایک ورچوئل چیٹ بوٹ کے ذریعے گفتگو کر سکیں۔
تاہم اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی اخلاقی اور سماجی سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
کیا کسی شخص کی وفات کے بعد اس کی ڈیجیٹل شناخت کو جاری رکھنا درست ہے؟
کیا اس کے اہل خانہ کی اجازت ضروری ہوگی؟ اور کیا اس عمل سے حقیقی اور مصنوعی کے درمیان فرق مزید دھندلا نہیں ہو جائے گا؟
دوسری جانب میٹا نے واضح کیا ہے کہ اس پیٹنٹ کو عملی شکل دینے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ کمپنی کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا میں اکثر ایسے خیالات کے لیے پیٹنٹس حاصل کیے جاتے ہیں جو بعد میں استعمال میں نہیں لائے جاتے۔ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ ہر پیٹنٹ مستقبل کی پالیسی یا منصوبے کی عکاسی کرے۔
یہ خبر ایک ایسے دور کی جھلک پیش کرتی ہے جہاں مصنوعی ذہانت نہ صرف روزمرہ کے کاموں بلکہ انسانی جذبات اور یادوں سے بھی جڑتی جا رہی ہے۔ آیا مستقبل میں سوشل میڈیا پر “ڈیجیٹل پریزنس” موت کے بعد بھی برقرار رہے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ فی الحال یہ بحث ضرور چھڑ گئی ہے کہ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے کس حد تک قریب آ چکی ہے۔