شائع 12 فروری 2026 12:02pm

بنگلہ دیش: عام انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن میں دھماکا

بنگلہ دیش میں جین زی انقلاب کے بعد آج پہلے عام انتخابات ہو رہے ہیں اور ملک بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔ اسی دوران ضلع گوپال گنج کے صدر علاقے میں ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔

بنگلہ دیشی اخبار ’پروتھوم آلو‘ کے مطابق، مذکورہ واقعہ جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے نو بجے ریشما انٹرنیشنل اسکول پولنگ سینٹر میں پیش آیا۔

پولنگ اسٹیشن پر تعینات سب انسپکٹر زاہد الاسلام کے مطابق ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے جاری تھا کہ اچانک قریبی نہر کے پار سے نامعلوم افراد نے دیسی ساختہ بم پھینکا۔

دھماکے کے نتیجے میں سکونتھا مجمدار اور جمال حسین نامی دو انصار اہلکار زخمی ہوئے جبکہ آرام باغ علاقے کے ایک ووٹر کی 14 سالہ بیٹی آمنہ خاتون بھی زخمی ہو گئی۔

زخمیوں کو فوری طور پر قریبی کلینک منتقل کیا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔

دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مرکز کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ ووٹنگ کا عمل متاثر نہ ہو۔

حکام کے مطابق واقعے کے باوجود پولنگ کا عمل جاری رکھا گیا۔

واضح رہے کہ یہ انتخابات سیاسی طور پر نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد عوام پہلی بار نئی قیادت کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ خواتین کے لیے 50 مخصوص نشستیں مختص ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 77 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔

ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس وقت ملک میں 51 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں جن کے 1732 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ 249 آزاد امیدوار بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ مختلف سیاسی اتحاد ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے متحرک ہیں۔

جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو جین زی انقلاب سے وابستہ نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں بھی ایک بڑا اتحاد انتخابی مہم چلا رہا ہے اور خود کو استحکام کی علامت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یاد رہے کہ جین زی انقلاب کے وقت شیخ حسینہ وزیراعظم تھیں اور بعد ازاں انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔

عوامی لیگ پر پابندی کے باعث انتخابی مقابلے کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اس فیصلے پر مختلف سیاسی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات بنگلہ دیش کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔ خاص طور پر نوجوان ووٹرز نئی قیادت سے شفاف حکمرانی، معاشی بہتری اور سیاسی استحکام کی امید لگا کر بیٹھے ہیں۔

پولنگ کا عمل جاری ہے اور حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ ملک کی سیاست کس سمت جاتی ہے۔

Read Comments