نجی زندگی خطرے میں، چیٹ جی پی ٹی صارف کی خفیہ پروفائلز بنانے لگا
اوپن اے آئی کی ایک سابق محقق زوئی ہٹزِگ نے کمپنی چھوڑتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات شامل کرنے کا منصوبہ صارفین کی انتہائی ذاتی معلومات کے غلط استعمال کا سبب بن سکتا ہے۔
ہٹزِگ کا کہنا ہے کہ لوگ چیٹ جی پی ٹی کو ایک قابل اعتماد دوست سمجھ کر اپنی صحت، تعلقات، مذہبی اعتقادات اور ذاتی مسائل کے بارے میں معلومات شیئر کرتے ہیں، جو عام سوشل میڈیا پوسٹس سے کہیں زیادہ نجی اور حساس ہوتی ہیں۔
ہٹزِگ نے کہا کہ اگر اشتہارات اس ڈیٹا کی بنیاد پر چلائے جائیں تو صارفین کو غیر محسوس انداز میں متاثر یا ہدایت دی جا سکتی ہے، جس کے نتائج سمجھنا یا روکنا مشکل ہوگا۔
اوپن اے آئی نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات آزمانے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن کمپنی نے کہا ہے کہ صارفین کی گفتگو کسی بھی اشتہار دینے والے کے ساتھ شیئر نہیں کی جائے گی اور ڈیٹا فروخت نہیں کیا جائے گا۔
سابق محقق نے یہ نہیں کہا کہ اوپن اے آئی نے موجودہ وقت میں وعدہ توڑا ہے، بلکہ ان کی تشویش مستقبل میں کاروباری دباؤ کے تحت اصول بدلنے کے امکانات سے متعلق ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس کے لیے مضبوط قانونی یا آزاد نگرانی کے طریقے ہوں تاکہ صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ ہمیشہ ترجیح ہو اور کاروباری حالات بدلنے پر بھی اسے کمزور نہ کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کی موجودہ تربیت بعض اوقات صارفین کو بہت زیادہ خوش کرنے یا ان کے خیالات کی توثیق کرنے کی طرف مائل کرتی ہے، اور اگر اشتہارات آمدنی کا مرکزی ذریعہ بن جائیں تو سسٹم صارف کی رہنمائی کی بجائے صارف کو زیادہ وقت تک مشغول رکھنے کو ترجیح دے سکتا ہے۔
صارفین کی جانب سے بھی دلچسپ صورتحال سامنے آ رہی ہے۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر لوگ اشتہارات کے باوجود مفت اے آئی ٹول استعمال جاری رکھیں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ نجی معلومات کی حفاظت کے بارے میں فکرمند تو ہیں، مگر اس کے لیے خدمات چھوڑنے کے لیے اتنے پرعزم نہیں۔
یہ صورتحال اوپن اے آئی کے لیے ایک سنگین چوراہے کی صورت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ چیٹ جی پی ٹی نہ صرف ایک مواد فراہم کرنے والا پلیٹ فارم ہے بلکہ صارفین کے لیے اساتذہ، مشیر اور رہنمائی کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ اس میں اشتہارات شامل کرنا صرف پرائیویسی ہی نہیں بلکہ صارفین کے اثر و رسوخ سے متعلق سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔