مسافر طیارے اکثر سفید لیکن نیوزی لینڈ کے کالے کیوں ہوتے ہیں؟
اگر آپ کبھی ہوائی اڈے پر کھڑے ہوئے ہیں یا فلائٹ فوٹوز دیکھیں، تو ایک چیز فوری طور پر نظر آئے گی، زیادہ تر کمرشل ہوائی جہاز سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ بجٹ ایئرلائن ہو یا بین الاقوامی طویل فاصلے کی فلائٹس، سفید رنگ غالب ہے۔ یہ شاید ہوابازی کی ایک غیر رسمی روایت ہے۔
لیکن کچھ ایئرلائنز اس روایت کو توڑ دیتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ایئر نیوزی لینڈ ہے، جو اپنے جہازوں کو سیاہ رنگ میں رنگتی ہے اور دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔
جہاز کی رنگت صرف ظاہری حسن کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے سائنس، کارکردگی اور حفاظت کے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
سفید رنگ جہاز کو ٹھنڈا رکھتا ہے
سفید رنگ سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے، جبکہ سیاہ رنگ سورج کی شعاعیں جذب کرتا ہے۔ جس سے طیارے کے اندرونی حصے گرم دنوں میں بھی ٹھنڈے رہتے ہیں۔ یہ ایئر کنڈیشننگ پر دباؤ کم کرتا اور زمین پر ایندھن کی بچت میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اس کے برعکس جب جہاز رن وے پر کھڑا ہوتا ہے، تو سیاہ رنگ کا جہاز زیادہ گرم ہو جاتا ہے، کیبن میں گرمی بڑھتی ہے اور ایئر کنڈیشننگ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، جو ایندھن کی کھپت بڑھا سکتا ہے۔
سفید رنگ ہلکا اور ایندھن بچاتا ہے
سفید رنگ عموما ہلکا ہوتا ہے اس لیے کم پرتیں درکار ہوتی ہیں، اس لیے وزن کم ہوتا ہے اور ایندھن کی بچت ہوتی ہے۔ سیاہ رنگ زیادہ تہوں اور پگمنٹ کے ساتھ بھاری ہوتا ہے، جو طویل فاصلے کی پرواز میں آپریشنل لاگت بڑھا سکتا ہے۔
نقصانات اور خراشیں آسانی سے نظر آتی ہیں
انجنئیرز کو دراڑیں، زنگ، تیل کے نشانات اور دیگر مسائل دیکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ سیاہ جہاز پر چھوٹے نقص چھپ جاتے ہیں، جس سے معائنہ مشکل ہو سکتا ہے۔
بلند پرواز میں سورج کی یو وی شعاعیں تیز ہوتی ہیں۔ سیاہ رنگ جلد مدھم پڑ جاتا ہے اور اکثر دوبارہ رنگنے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ سفید رنگ طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے اور دیکھ بھال کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔
پرندوں کا طیاروں سے ٹکراو کا خطرہ کم ہوجاتا ہے
سفید رنگ نیلے آسمان میں نمایاں ہوتا ہے، جس سے پرندوں کو طیارہ دیکھنے میں آسانی ہوتی ہے اور ٹکراؤ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ایئر نیوزی لینڈ نے سفید طیاروں کے عمومی اصول کو توڑ کر سیاہ رنگ اختیار کیا۔ اس نے 2007 میں اپنا پہلا سیاہ بوئنگ 777 متعارف کرایا، جو رگبی ورلڈ کپ کی تشہیر کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ ڈیزائن نیوزی لینڈ کی معروف رگبی ٹیم آل بلیکس کے اعزاز میں تھا۔
اس کے بعد، ایئر نیوزی لینڈ نے یہ روایت جاری رکھی اور اپنے ہر بڑے جہاز کے لیے کم از کم ایک سیاہ رنگ والا ماڈل پیش کیا۔
ایئر نیوزی لینڈ کے سیاہ رنگ کے طیارے نہ صرف نیوزی لینڈ کی ثقافتی شناخت کو ظاہر کرتے ہیں، بلکہ برانڈ کی پہچان اور مارکیٹ میں نمایاں مقام بھی فراہم کرتے ہیں۔
ایئر نیوزی لینڈ کا بوئنگ 777-300ER دنیا کا سب سے بڑا سیاہ رنگ کا کمرشل جہاز ہے۔ مزید یہ کہ 2022 میں ایئر بس A321neo ZK-OYB بھی متعارف کروایا گیا، جو مکمل طور پر سیاہ ہے اور اسٹار الائنس میں پہلی بار ایسا ہوا۔ ایئر لائن کے مطابق، سیاہ رنگ طیارے کی کارکردگی، ہینڈلنگ یا ایندھن کی کھپت پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالتا۔
واضح رہے کہ سیاہ رنگ نیوزی لینڈ کی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ کھیل، جوتے، اسپورٹس جرسیز سب کچھ سیاہ رنگ میں ہوتی ہیں اور یہ اس ملک کی قومی شناخت کا حصہ ہیں۔