اپ ڈیٹ 11 فروری 2026 10:36am

راج پال یادَو بھارت کی سب سے خطرناک جیل میں کیوں ہیں؟

بولی وڈ کے معروف کامیڈین اداکار راج پال یادو اس وقت تہاڑ جیل میں ہیں اور اس خبر نے فلم انڈسٹری سمیت فلمی شائقین کو چونکا دیا ہے۔ کئی برسوں سے جاری ایک مالی تنازع اب قانونی انجام تک پہنچ چکا ہے، جس میں عدالت نے اداکار کو چھ ماہ قید کی سزا سنادی۔

یہ معاملہ محض ایک چیک باؤنس کیس نہیں بلکہ ایک دہائی پر پھیلی ایسی کہانی ہے، جس میں فلمی ناکامی، بڑھتا قرض، بار بار وعدے اور عدالت کی ہدایات کی عدم عدولی شامل ہے۔

اس کیس کی جڑیں سال 2010 سے جڑی ہیں، جب راج پال یادو نے بطور ہدایتکار اپنی پہلی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ بنانے کے لیے مُرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے تقریباً 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ بدقسمتی سے فلم باکس آفس پر بری طرح ناکام رہی، جس کے بعد اداکار کی مالی مشکلات بڑھتی چلی گئیں۔

قرض کی واپسی میں تاخیر، سود اور جرمانوں کی وجہ سے یہ رقم وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی اور بالآخر تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

ادائیگی کے لیے راج پال یادو نے قرض دہندہ کو کئی چیک جاری کیے، مگر یہ چیک باؤنس ہو گئے، جس کے بعد نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔

اپریل 2018 میں مجسٹریٹ عدالت نے راج پال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا کو مجرم قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کو 2019 میں سیشن کورٹ نے بھی برقرار رکھا، جس کے بعد معاملہ دہلی ہائی کورٹ تک پہنچا۔

دہلی ہائی کورٹ نے وقتاً فوقتاً راج پال یادو کو رقم قسطوں میں ادا کرنے کے کئی مواقع دیے۔ عدالت کے مطابق، اداکار نے کچھ جزوی ادائیگیاں ضرور کیں، مگر مقررہ شیڈول کے مطابق وعدے پورے نہیں کیے اور بڑی رقم کی ادا ئیگی باقی رہی۔

جون 2024 میں عدالت نے سزا عارضی طور پر معطل کی تھی، بشرطیکہ وہ سنجیدگی سے معاملہ حل کرنے کی کوشش کریں، لیکن بعد میں عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں۔

2 فروری 2026 کو دہلی ہائی کورٹ نے راج پال یادو کو 4 فروری تک جیل حکام کے سامنے خود سپرد ہونے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ بار بار عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی قابلِ مذمت ہے۔

جب راج پال یادو مقررہ وقت پر پیش نہ ہو سکے اور ان کے وکیل نے مزید وقت کی اپیل کی، تو عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔

5 فروری 2026 کو راج پال یادو عدالت میں پیش ہوئے اور 25 لاکھ روپے کا ڈرافٹ جمع کرانے کی پیشکش کی، مگر عدالت نے پہلے دیے گئے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اسی روز انہوں نے تہاڑ جیل میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا اور اپنی چھ ماہ کی سزا کا آغاز کیا۔

اس سے قبل ایک انٹرویو میں راج پال یادو نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا:
’میرے پاس رقم نہیں ہے، میں کیا کروں؟ مجھے کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم انڈسٹری میں ہر شخص اپنے معاملات میں الجھا ہوا ہے اور مدد ملنا آسان نہیں۔

راج پال یادو کے جیل جانے کے بعد کئی فلمی شخصیات ان کے حق میں سامنے آئیں۔ ادا کار سونوسود کے اداکار کی مالی معاونت کے اعلان کے بعد جیم ٹونز میوزک کے مالک اور میوزک پروڈیوسر راؤ اندر جیّت سنگھ نے اداکار کی مدد کے لیے 1.1 کروڑ روپے کی پیشکش کی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے ایک گفتگو میں کہا کہ، ’راج پال جی نے شائقین میں بے شمار خوشیاں بانٹی ہیں اور بھارتی سینما کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ سپورٹ صرف رقم کے لیے نہیں ہے، بلکہ ایک انسان کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے ہے۔ ہماری انڈسٹری ایک خاندان کی طرح ہے، اور خاندان مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔‘

انہوں نے انسٹاگرام پر بھی پوسٹ کرتے ہوئے مزید لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اداکار کی مدد کے لیے آگے آئیں۔

اس سے قبل اداکار سونو سود نے اعلان کیا تھا کہ وہ راج پال یادو کو اپنی فلم میں کام دیں گے اور سائننگ اماؤنٹ بھی فراہم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خیرات نہیں بلکہ عزت ہے۔

ہدایت کار انيس بزمی نے بھی اداکار کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ راج پال یادو کبھی کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور اتنی بڑی رقم ایک ساتھ ادا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔

اداکار گرمیت چودھری نے بھی جذباتی پیغام میں کہا کہ انڈسٹری کو اپنے سینئر فنکار کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

فلم انڈسٹری کے ساتھ ساتھ سیاسی شخصیات بھی راج پال یادو کی مدد کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے صدر تیج پرتاپ یادیو نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ راجپال یادیو کے خاندان کو 11 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کریں گے۔

پیشہ ورانہ محاذ پر، راج پال یادو حال ہی میں ’بےبی جان‘ اور ’انٹروگیشن‘ میں نظر آئے تھے۔ وہ جلد اکشے کمار کی فلم ’بھوت بنگلہ‘ میں دکھائی دیں گے، جو اپریل میں ریلیز ہوگی۔

Read Comments