بڑی اسکرین، بڑی مزا: واٹس ایپ ویب سے آڈیو ویڈیو کال کرنے کا طریقہ
ڈیجیٹل رابطوں کی دنیا میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے میٹا نے واٹس ایپ کے ویب ورژن میں وائس اور ویڈیو کالنگ کی سہولت متعارف کرانے کا آغاز کر دیا ہے۔
اب صارفین کسی اضافی سافٹ ویئر یا ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشن کو انسٹال کیے بغیر براہِ راست اپنے ’ویب براؤزر‘ کے ذریعے کال کر سکیں گے۔ یہ پیش رفت خاص طور پر ان افراد کے لیے خوش آئند ہے جو کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزارتے ہیں۔
فی الحال یہ نیا فیچر مرحلہ وار متعارف کرایا جا رہا ہے اور محدود تعداد میں بیٹا صارفین کو دستیاب ہے، تاہم آئندہ ہفتوں میں اسے وسیع پیمانے پر جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
واٹس ایپ ویب میں نئی تبدیلی
واٹس ایپ ویب کے انفرادی چیٹ باکس کے اوپری حصے میں اب کال اور ویڈیو کال کے بٹن شامل کیے جا رہے ہیں۔ یہ انداز ڈیسک ٹاپ ایپ جیسا ہے، جہاں ایک کلک سے کال کا آغاز ممکن ہوتا ہے۔ اس سے قبل ویب ورژن صرف پیغامات بھیجنے، فائلیں شیئر کرنے اور میڈیا دیکھنے تک محدود تھا۔ کال کرنے کے لیے صارفین کو موبائل فون یا الگ سے انسٹال کی گئی کمپیوٹر ایپ استعمال کرنا پڑتی تھی۔
لینکس صارفین کے لیے بڑی خوشخبری
چونکہ یہ سہولت مکمل طور پر براؤزر کے اندر کام کرے گی، اس لیے وہ صارفین بھی مستفید ہو سکیں گے جو ایسے آپریٹنگ سسٹمز استعمال کرتے ہیں جن کے لیے واٹس ایپ کی علیحدہ ایپ دستیاب نہیں، مثلاً لینکس۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اس پیش رفت کو دیرینہ مطالبہ قرار دیتے ہوئے اسے خوش آئند قدم کہا ہے۔
البتہ کچھ حلقوں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ کمپنی کو اپنی ڈیسک ٹاپ ایپ کی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ حالیہ عرصے میں اس کے معیار پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔
گروپ کالنگ بھی متوقع
ویب کالنگ کا یہ فیچر دراصل ایک بڑے منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئندہ مرحلے میں ’گروپ کالنگ‘ کی سہولت بھی ’ویب ورژن‘ کا حصہ بنائی جائے گی، جس سے آن لائن میٹنگز اور اجتماعی رابطے مزید آسان ہو جائیں گے۔
سیکیورٹی میں بھی اضافہ
ادھر واٹس ایپ نے حال ہی میں صارفین کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا سیکیورٹی موڈ بھی متعارف کرایا ہے۔ اس فیچر کے تحت صارفین ایک کلک کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ کی حفاظتی سطح بڑھا سکتے ہیں، اگرچہ اس کے بدلے کچھ سہولیات محدود ہو جاتی ہیں۔
اس جدید حفاظتی نظام میں نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجی گئی میڈیا فائلوں اور اٹیچمنٹس کو بلاک کرنا، لنک پری ویو کو غیر فعال کرنا، اور غیر محفوظ نمبرز سے آنے والی کالز کو سائیلنٹ کرنا شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نگرانی یا سائبر حملوں کے ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔