اپ ڈیٹ 10 فروری 2026 06:05pm

نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ؛ ’ریاست کے بھروسے سولر سسٹم لگانے والوں کے ساتھ زیادتی ہے‘

پاکستان میں بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف کروانے کے بعد عام صارفین میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ نیا نظام آخر ہے کیا، اس میں بنیادی فرق کیا ہے اور اس سے گھروں اور کاروباروں میں سولر سسٹم لگوانے والے پرانے اور نئے صارفین کس حد تک متاثر ہوں گے۔

نیٹ میٹرنگ وہ نظام تھا جس کے تحت اگر کوئی صارف سولر پینلز کے ذریعے بجلی پیدا کرتا تھا تو اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق یونٹ استعمال کرنے کے بعد باقی بجلی گرڈ کو دے دیتا تھا۔ یعنی اگر صارف نے زیادہ بجلی پیدا کی تو اس کا بل کم ہو جاتا یا بعض اوقات صفر بھی آ جاتا تھا۔

اس نظام نے پاکستان میں سولر توانائی کے استعمال کو بہت فروغ دیا، خاص طور پر اُس وقت جب بجلی کے نرخ مسلسل بڑھ رہے تھے۔

تاہم، نیٹ میٹرنگ ڈسکوز کے لیے مالی نقصان کا باعث بننے لگے، کیونکہ اگر کوئی صارف 100 یونٹ ڈسکوز کے استعمال کرتا اور 100 ہی یونٹ یا اسے زیادہ گرڈ میں واپس کردیتا تو اس کا بِل بنتا ہی نہیں تھا۔

لیکن اب نیپرا کی جانب سے متعارف کرائے گئے نیٹ بلنگ نظام میں یہ بنیادی تصور تبدیل کر دیا گیا ہے۔

نئے قواعد کے تحت سولر صارفین اپنی اضافی بجلی گرڈ کو پہلے کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر فروخت کریں گے جبکہ جب انہیں اپنی ضرورت کے لیے بجلی گرڈ سے لینی پڑے گی تو وہی مہنگا ٹیرف ادا کرنا ہو گا جو عام نان سولر صارفین دیتے ہیں۔

اس فرق کو سمجھنا عام صارف کے لیے سب سے اہم ہے کیونکہ یہی تبدیلی مالی فائدے یا نقصان کی بنیاد بنے گی۔

نیپرا کے مطابق نیٹ میٹرنگ سے منسلک پرانے صارفین بھی بتدریج نیٹ بلنگ کے نظام پر منتقل کر دیے جائیں گے۔ اگرچہ ان کے موجودہ معاہدے اپنی مدت پوری کریں گے اور ان پر معاہدوں کی شرائط برقرار رہیں گی، تاہم اضافی بجلی کے حساب کا طریقہ بدل جائے گا۔

پہلے ایکسپورٹ اور امپورٹ یونٹس کو آپس میں مائنس کر کے بل بنایا جاتا تھا، مگر نیٹ بلنگ میں ایسا نہیں ہو گا۔ پہلے سولر صارف ایک یونٹ کے بدلے ایک یونٹ واپس کرے تو حساب برابر ہوتا تھا۔ لیکن اب ایک یونٹ کے بدلے کم از کم پانچ یونٹ گرڈ میں واپس کرنے ہوں گے۔

اب گرڈ کو دی گئی بجلی کی قیمت الگ سے طے ہو گی اور گرڈ سے لی گئی بجلی کا بل الگ سے عام نرخوں پر بنایا جائے گا۔

نئے صارفین کے لیے متعارف کردہ پالیسی کے تحت نیٹ بلنگ کے معاہدے کی مدت پانچ سال رکھی گئی ہے۔

اس نظام میں جب کسی صارف کا سولر سسٹم بجلی کے قومی گرڈ سے جڑ جائے گا تو ہر بلنگ سائیکل کے آخر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی یہ حساب لگائے گی کہ صارف نے کتنی بجلی خود استعمال کی اور کتنی بجلی اس نے سولر سسٹم سے پیدا کر کے گرڈ کو فراہم کی۔

صارف کی فراہم کردہ بجلی قومی اوسط قیمت پر خریدی جائے گی جو اس وقت تقریباً 11 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ صارف جب گرڈ سے بجلی لے گا تو اسے 40 سے 50 روپے یا بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ فی یونٹ ادا کرنا پڑے گا۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایک طرف صارفین کو 40 روپے فی یونٹ بجلی فروخت کرے گی اور دوسری طرف ان سے صرف 11 روپے فی یونٹ میں بجلی خریدے گی، جبکہ 18 فیصد سیلز ٹیکس کا اطلاق بھی اسی مہنگی بجلی پر ہو گا۔

ان کے مطابق یہ فرق صارفین کے لیے مالی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سابق صدر مملکت عارف علوی کے صاحبزادے عواب علوی نے اس حساب کو آسان کرکے سمجھایا۔

عواب علوی نے مثال دیتے ہوئے سمجھایا کہ آپ نے بجلی کے گرڈ سے 500 یونٹ بجلی استعمال کی اور آپ کے سولر سسٹم نے 400 یونٹ بجلی واپس گرڈ کو دے دی۔ پرانے نیٹ میٹرنگ سسٹم میں صرف استعمال اور دی گئی بجلی کے فرق کا حساب ہوتا تھا، یعنی 500 میں سے 400 یونٹ منہا کیے جاتے تھے اور باقی 100 یونٹ پر تقریباً 33 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل بنتا تھا، جو تقریباً 3,300 روپے ہوتا تھا۔

لیکن نئے نیٹ بلنگ سسٹم میں بجلی کی خرید اور فروخت الگ الگ شمار ہوتی ہے۔ اس میں آپ 500 یونٹ بجلی 33 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدتے ہیں، جس کا بل تقریباً 16,500 روپے بنتا ہے، جبکہ سولر سے دی گئی 400 یونٹ بجلی 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے بیچی جاتی ہے، جس کا کریڈٹ تقریباً 4,000 روپے ملتا ہے۔ یوں کریڈٹ منہا کرنے کے بعد آپ کا آخری بل تقریباً 12,500 روپے بن جاتا ہے۔ یعنی سولر سسٹم وہی ہے، مگر بل میں بہت بڑا فرق آ جاتا ہے۔

نیپرا کے مطابق اگر کسی مہینے گرڈ کو دی گئی بجلی کی رقم، صارف کے بجلی کے بل سے زیادہ ہو جائے تو یہ اضافی رقم یا تو اگلے بل میں ایڈجسٹ کر دی جائے گی یا پھر ہر تین ماہ بعد صارف کو ادا کی جائے گی۔

نیٹ میٹرنگ کے مقابلے میں یہ طریقہ صارف کے لیے کم فائدہ مند سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس طرح یونٹس کی سیدھی ایڈجسٹمنٹ ممکن نہیں رہی۔

نیٹ بلنگ کے نئے قواعد کے تحت سولر سسٹم کی زیادہ سے زیادہ حد ایک میگاواٹ مقرر کی گئی ہے اور یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ سسٹم کی صلاحیت صارف کے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ صارفین ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی پیدا کر کے گرڈ پر بوجھ نہ ڈالیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سولر پینلز کی لاگت میں کمی کے باعث سولر توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔

بی بی سی کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں تقریباً سات ہزار میگاواٹ بجلی سولر سسٹمز سے پیدا کی جا رہی ہے جس میں نیٹ میٹرنگ اور نان نیٹ میٹرنگ دونوں طرح کے صارفین شامل ہیں۔

حکومت اور توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے قومی گرڈ سے بجلی کی کھپت کم ہو رہی ہے، جس کا اثر کیپسٹی پیمنٹس کی صورت میں نان سولر صارفین پر پڑتا ہے۔

سولر ایسوسی ایشن کے چیئرمین وقاص موسیٰ کا کہنا ہے کہ نیپرا کی جانب سے نیٹ بلنگ متعارف کروانے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ حکومت گرڈ سے بجلی کی کھپت بڑھانا چاہتی ہے تاکہ نظام پر مالی دباؤ کم ہو سکے۔

سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ”اس اقدام کے پیچھے مالی مقاصد بھی چھپے ہیں۔“

انہوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ ”آج بجلی خاموشی سے ریاست کے لیے ٹیکس وصولی کا سب سے قابل بھروسہ ذریعہ بن چکی ہے۔ وہ صارفین جو اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں، نہ صرف ڈیمانڈ کم کرتے ہیں بلکہ ان سرچارجز اور لیویز کی آمدن بھی کم کر دیتے ہیں جو بجلی کے بلوں کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں“

حکومت کی یہ نئی پالیسی تنقید کا شکار بھی ہے۔ صحافی عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ ”ریاست جو پہلے کسی سرمایہ کاری (مثلاً سولر پینلز) کی حوصلہ افزائی کرتی تھی اور پھر قوانین تبدیل کر کے اس کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے، وہ نہ تو اپنے شہریوں اور نہ ہی غیر ملکی سرمایہ کاروں سے یہ توقع رکھ سکتی ہے کہ وہ اس پر بھروسہ کریں گے۔“

سینیٹر شیری رحمان کا بھی کہنا ہے کہ ”نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نئے پروزیومر قوانین نہ صرف ملک میں توانائی کی منتقلی کے عمل کو سست کریں گے اور پاکستان کے ماحولیاتی وعدوں کی نفی کریں گے، بلکہ یہ لفظی طور پر شہریوں کو صاف اور سستی توانائی پیدا کرنے کی سزا دینے کے مترادف ہیں۔ یہ ان شہریوں کے ساتھ زیادتی ہے جنہوں نے ریاست کے فراہم کردہ معاہدے پر بھروسہ کرتے ہوئے سولر سسٹم پر سرمایہ کاری کی۔“

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما احمد گھمن کا کہنا ہے کہ جو سولر یونٹ 25 روپے 32 پیسے میں خریدا جا رہا تھا اس کے اب صرف 8 روپے 13 پیسے دیے جائیں گے۔

انہوں نے لکھا کہ ”آج ایک فیصلے سے 17 روپے 19 پیسے کم کر دیے گئے، یہ اصلاح نہیں کھلی سزا ہے“۔

حکومت کی یہ نئی پالیسی سولر صارفین کو بیٹری سسٹمز کی طرف دھکیل سکتی ہے کیونکہ اب گرڈ کو بجلی فروخت کرنا مالی طور پر اتنا فائدہ مند نہیں رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹ بلنگ کے نئے نظام کے بعد اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ لوگ گرڈ سے جڑنے کے بجائے سولر پینلز کے ساتھ بیٹریاں لگا کر اپنی بجلی ذخیرہ کریں گے تاکہ مہنگی بجلی خریدنے سے بچ سکیں۔

شیری رحمان نے مشورہ دیا ہے کہ اگر بجلی ضرورت سے زیادہ ہے تو ایسے اے آئی سینٹرز قائم کیے جائیں جو اس زائد بجلی کو استعمال کریں۔ یا پھر ان پرانے معاہدوں میں اصلاحات کی جائیں جہاں ریاست بجلی استعمال نہ ہونے کی صورت میں بھی ادائیگی کرتی ہے۔

Read Comments