اپ ڈیٹ 09 فروری 2026 08:58pm

آئی سی سی مذاکرات: مہمان گھر آئے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں، چیئرمین پی سی بی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان بات چیت جاری ہے، وہاں سے کوئی اطلاع آئے گی تو اس پر تبصرہ کریں گے۔ جب کوئی مہمان خود چل کر گھر آجائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں۔

چیئرمین پی سی محسن نقوی نے لاہور میں ملتان سلطانز کی نیلامی کی تقریب کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈکپ میں مسئلہ بنگلادیش اور آئی سی سی کے درمیان تھا۔ بنگلادیش ہمارا برادر ملک ہے، ان کی حمایت کے لیے وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت آئی سی سی اور بنگلادیش کے درمیان بات چیت جاری ہے، کوئی اطلاعات سامنے آئیں گی تو پھر ہی اس پر گفتگو کی جاسکتی ہے۔

بھارت سے میچ نہ کھیلنے کی صورت میں ممکنہ پابندیوں سے متعلق سوال پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نہ میں دھمکیوں سے ڈرتا ہوں اور نہ ہی حکومت ڈرتی ہے اور فیلڈ مارشل کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔

مذاکرات کے دوران آئی سی سی کے رویے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مہمان کی عزت کرنا سیکھا ہے اور جب کوئی خود چل کر گھر آجائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کچھ دوست ممالک بھی رابطے میں ہیں، ہم نے انہیں اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ہے، جلد ہی سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا کہ جب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ میں آکر بنگلا دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کردیا تھا۔

جس کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر بھارت میں شیڈول ورلڈکپ میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جسے آئی سی سی نے مسترد کردیا تھا اور بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کرلیا تھا۔

جواب میں پاکستان نے بنگلادیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ورلڈکپ میں 15فروری کو بھارت سے شیڈول میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سے آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

اسی سلسلے آئی سی سی کا خصوصی وفد لاہور پہنچا، جس نے گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے طویل ملاقات کی جو چار گھنٹے تک جاری رہی۔ اس ملاقات میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، پاک بھارت میچ اور کرکٹ کے حوالے سے مختلف معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے واضح طور پر مؤقف اپنایا گیا کہ وہ اپنے لیے کسی قسم کی رعایت یا فوائد حاصل کرنے کی خواہش مند نہیں تاہم بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔

آئی سی سی کی درخواست پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے وزیراعظم سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات جلد متوقع ہے۔

پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ کھیلنے یا نہ کھیلنے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے، جبکہ آئی سی سی کو بھی پاکستان کے مؤقف اور شرائط سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

Read Comments