شائع 07 فروری 2026 03:56pm

امریکی ناظم الامور کا دورۂ سندھ: معاشی ترقی اور باہمی شراکت داری کے عزم کا اعادہ

امریکی ناظم الامور چارج ڈی افیئرز (سی ڈی اے) نیٹلی بیکر نے 25 سے 31 جنوری تک صوبہ سندھ کا سرکاری دورہ مکمل کیا، جس میں انہوں نے سیاسی قائدین، کاروباری شخصیات اور مقامی نمائندگان سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے کا مقصد اقتصادی ترقی، علاقائی استحکام اور امریکی امتیاز و مہارت کے ذریعے پاک امریکا مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھانا تھا۔

سی ڈی اے بیکر کی یہ سرگرمیاں امریکی مشن کی تجارتی، کاروباری اور تکنیکی شعبوں میں پاک امریکا دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے جاری وابستگی کا مظہر ہیں۔ انہوں نے سکھر میں بڑے صنعتی مراکز بشمول امریکی ادارے ’مونڈلیز انٹرنیشنل‘ کے اشتراک سے قائم جدید ’کنٹینینٹل بسکٹس‘ فیکٹری کا دورہ کیا۔

اس موقع پر نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ پاک امریکا معاشی شراکت داری کی اس سے بہتر کیا مثال ہو سکتی ہے جہاں ہم مل کر روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں، جدت کو فروغ دے رہے ہیں اور باہمی خوشحالی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پاکستان بھر میں صنعتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور رسد و ترسیل (سپلائی چین) کے نظام کو جدید خطوط پراستوار اور مضبوط کررہے ہیں۔

نیٹلی بیکر نے میرپور خاص میں ایک شگر مل، ایتھانول، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پیپر پلانٹ کا بھی دورہ کیا، جہاں جدید امریکی ٹیکنالوجی اور رسد و ترسیل کا نظام مؤثر و معیاری پیداوار کو امریکی منڈیوں تک رسائی کو ممکن بنانے میں مدد دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیمیکل پلانٹ پاک امریکا کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جو غیر ضروری مواد میں کمی، پیداواری قدر میں بہتری اور پاکستانی پیداوار کی بین الاقوامی رسد و ترسیل میں شمولیت کو ممکن بنا رہا ہے۔

امریکی ناظم الامور نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کی بدولت مضبوط مقامی مینوفیکچرنگ اور قابلِ اعتماد زرعی وسائل دونوں ممالک کی دیرپا معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
اپنے دورے کے دوران نیٹلی بیکر نے گڑھی خدا بخش، لاڑکانہ میں بھٹو خاندان کے مزار پر حاضری دی اور اسکی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو سراہا۔

مذہبی آزادی اور عقیدے پر مبنی تنظیموں کے تحفظ کے امریکی عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے ہندو برادری کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی اور بین المذاہب ہم آہنگی اور تمام شہریوں کے یکساں حقوق کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا۔

کھیلوں کے شعبے میں امریکی امتیاز و مہارت کو اُجاگرکرنے کے لیے انہوں نے حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم کا دورہ بھی کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ لاس اینجلس میں ہونے والے 2028 کے اولمپکس میں کرکٹ کی شمولیت اس بات کا مظہر ہے کہ کیسے کھیلوں کی مدد سے سرحدوں سے ماورا لوگوں کو متحد کیا جاسکتا ہے۔

حیدرآباد پی ایس ایل کی نئی کرکٹ ٹیم کا بھی مرکز ہے، جسے ایک امریکی سرمایہ کار تشکیل و ترقی دینے میں مدد دے گا۔
امریکی مشن کی مصروفیات کے تسلسل میں، کراچی میں متعین امریکی قونصل خانہ کراچی کے پولیٹیکل اینڈ اکنامک کونسلر پیٹرمیکشہری نے میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ اور اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ سے ملاقاتیں کیں، جن میں مقامی طرز حکمرانی اور منصفانہ تجارتی تعلقات میں وسعت پر بات چیت کی گئی۔

انہوں نے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا، جہاں وہ اساتذہ و طلبا سے ملے اور امریکی مالی معاونت اور وینڈربلٹ یونیورسٹی کے تعاون سے جاری سٹیم پاورڈ پروگرام کا جائزہ لیا، جو نوجوانوں کو روزگار و کاروبار کے لیئے جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

نیٹلی بیکر کا یہ دورہ امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ سے قبل امریکا اور پاکستان کے درمیان عملی نتائج پر مبنی مضبوط و پائیدار شراکت داری کے عزم کو اجاگر کرتا ہے، جس میں استحکام، خود انحصاری، اداروں کی مضبوطی اور دونوں ممالک کے لیے مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینا شامل ہے۔

Read Comments