پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے 29 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوگئے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ازبکستان شوکت مرزائیوف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں۔
جمعرات کو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مفاہمتی یاد داشتوں کے تبادلے کی تقریب وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی، جہاں دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کے درمیان تعاون بڑھانے کی مفاہمتی یاد داشت کا تبادلہ ہوا جب کہ دونوں ملکوں کے درمیان انٹر ریجنل فورم کے قیام کا معاہدہ کیا گیا۔
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سزا یافتہ افراد کے تبادلے کے لیے معاہدے، آئی ٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا۔ ادویہ سازی کے شعبے میں تعاون کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا جب کہ دونوں ملکوں کے درمیان نشہ آور ادویات کی اسمگلنگ روکنے کا معاہدہ کیا گیا۔
پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ اعلامیے سمیت تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت و غذائی تحفظ، کان کنی، دفاعی تعاون، ماحولیاتی تبدیلی، کھیل و ثقافت، ادویہ سازی، انسداد منشیات اور دیگر شعبوں میں تعاون کے 29 معاہد وں اور ایم او یوز پر دستخط کئے ہیں۔ تقریب میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اورازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے شرکت کی۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے اور تبادلہ کیا، جس کے بعد مفاہمت کی متعدد یادداشتوں اور معاہدوں پر دونوں ممالک کے متعلقہ وزرا کے مابین دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔
دونوں ممالک کی خارجہ امور کی وزارتوں کے مابین 2025-2028 کے لیے تعاون کے معاہدے پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ازبکستان کے صدر کے مشیر برائے خارجہ امور ، پری فیرنشل ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت گڈز لسٹ کی توسیع کے پروٹوکول پر وزیر تجارت جام کمال اور ازبکستان کے وزیر برائے سرمایہ کاری و تجارت، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کے معاہدے پر وزیر تجارت جام کمال، ازبکستان کی لائٹ انڈسٹری کی ترقی کے لیے قائم ادارے کے ڈائریکٹر، کان کنی و جیو سائنس کے شعبے میں تعاون کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کی وزارت اور ازبکستان کی مائننگ و جیو سائنس کی صنعت کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار و ازبکستان کی کان کنی و جیالوجی کے وزیر ، سزا یافتہ مجرموں کے تبادلے کے معاہدے پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری و ازبکستان کے صدر کے مشیر برائے خارجہ امور، منشیات کی روک تھام کے لیے تعاون کے معاہدے پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری و ازبکستان کے صدر کے مشیرنے معاہدے پردستخظ کیے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں دونوں ممالک کی متعلقہ وزارتوں میں مفاہمت کی یادداشت پر وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ و ازبکستان کے وزیر برائے سرمایہ کاری و تجارت، سائنسی تعلیم، کلچرل و آرکیٹیکچرل ہیریٹیج کے تحفظ و تحقیق و فروغ کے لیے معاہدے پر وزیر برائے قومی ثقافتی ورثہ اورنگزیب کھچی و ازبکستان کے وزیر ثقافت ، ثقافت کے شعبے میں تعاون کے لیے دونوں ممالک کی متعلقہ وزارتوں میں تعاون کے معاہدے پر وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی و ازبکستان کے وزیر ثقافت، پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل، پی اے آر سی اور ازبکستان کی زراعت کی وزارت کے مابین ایم او یو پر وفاقی وزیر رانا تنویر اور ازبکستان کے وزیر زراعت نے تبادلہ خیال کیا۔
تازہ پھلوں کی درآمد کے لیے فائٹو کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پلانٹ پروٹیکشن کے شعبے میں پروٹوکول پر دونوں ممالک کے وزرائے زراعت، فوڈ سیکورٹی کے لیے تعاون کے معاہدے پر بھی دونوں ممالک کے زراعت و فوڈ سیکورٹی کے وزرا، کراچی ، گوادر، پورٹ قاسم بندرگاہوں پر کارگو کنٹینرز کے حوالے سے میری ٹائم ٹریڈ اینڈ پیری فیرنشل پورٹ ارینجنمنٹس کیلئے ایم او یو پر وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری اور ازبکستان کے وزیر برائے سرمایہ کاری و تجارت دفاعی تعاون کیلئے ایکشن پلان اور روڈ میپ پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ازبکستان کے وزیر دفاع ، این ڈی ایم اے اور ازبکستان کی قومی کمیٹی برائے اکالوجی و ماحولیاتی تبدیلی کے مابین اکالوجی و ماحولیاتی تبدیلی و ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں ایم او یو پر وزیر دفاع خواجہ آصف و ازبکستان کے وزیر دفاع ، این ڈی ایم اے اور ازبکستان کی ہنگامی صورتحال کی وزارت کے مابین ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تعاون کیلئے ایم او یو پر بھی دونوں ممالک کے دفاع کے وزراءنے دستاویزات کا تبادلہ کیا۔
چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار میں سہولت کے لیے وزارت صنعت و پیداوار اور ازبکستان کی اکانومی و فنانس کی وزارت کے مابین ایم او یو پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ازبکستان کے سرمایہ کاری و تجارت کے وزیر، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور ازبکستان کے فارماسیوٹیکل مصنوعات کے لیے سٹیٹ انسٹی ٹیوشن سنٹر کے مابین فارماسیوٹیکل مصنوعات کے ریگولیٹری امور پر تعاون کیلئے ایم او یو پر وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور ازبکستان کے فارماسیوٹیکل انڈسٹری ڈویلپمنٹ کے ادارے کے ڈائریکٹر ، فزیکل کلچر و سپورٹس کے شعبے میں تعاون کے لیے پاکستان سپورٹس بورڈ اور ازبکستان کی وزارت برائے ثقافت کے مابین ایم او یو پر وزیر برائے بین الصوبائی روابط رانا ثنا اللہ اور ازبکستان کے وزیر سرمایہ کاری و تجارت کے مابین دستخط شدہ دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔
اس کے علاوہ پاکستان اور ازبکستان کے مابین جن ایم او یوز اور معاہدوں کا اعلان ہوا، ان معاہدوں میں یونیورسٹی آف پشاور اور تاشقند یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز کے مابین ایم او یو، انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد اور ازبکستان کے انسٹی ٹیوٹ برائے سٹریٹجک اینڈ ریجنل اسٹڈیز کے مابین ایم او یو ، وزارت خارجہ کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور ازبکستان انسٹی ٹیوٹ برائے سٹریٹجک و ریجنل اسٹڈیز کے مابین پاکستان ازبکستان ایکسپرٹ کونسل کے قیام کے لیے ایم او یو ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور ازبکستان کی انڈسٹریل ، ریڈی ایشن و نیوکلیئر سیفٹی کمیٹی کے مابین ایم او یو ، قومی احتساب بیورو اور ازبکستان کی اینٹی کرپشن ایجنسی کے مابین ایم او یو ، پشاور اور ترمز شہروں کی انتظامیہ کے مابین شراکت داری تعلقات کے قیام کا معاہدہ ، اسلام آباد اور سمرقند شہروں کی انتظامیہ کے مابین تعاون بڑھانے کے لیے ایم او یو اور پاکستان ازبکستان جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام کیلئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اور ازبکستان کی صنعتوں کے مابین معاہدے بھی شامل ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اعلامیے کے علاوہ 21 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا جب کہ 8 مزید ایم او یوز کا اعلان بھی کیا گیا۔
پلان کے تحت تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی، وزیراعظم
اس موقع پر معاہدوں کی تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ازبک صدر اور وفد کے دورہ پاکستان پر خوشی ہے، پروفیسر اور ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری پر ازبک صدر کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات وقت کے ساتھ مستحکم ہوئے، تاریخی حقائق ہمارے قریبی تعلقات اور شاندار مستقبل کے عکاس ہیں، دورہ ازبکستان میں شاندار میزبانی آج بھی ذہن میں تازہ ہے، ہم نے اعلی سطح تزویراتی تعاون کونسل کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی۔
شہبازشریف نے کہا کہ علاقائی روابط کے فروغ کے حوالے سے مکمل تعاون کے لیے پرعزم ہیں، دوطرفہ تجارت میں اضافے کا پروٹوکول معاشی تعاون کے لیے اہم ہے، مختلف شعبوں میں تعاون کا مواقع سے استفادہ کرنا ہے، 5 سالہ پلان کے تحت تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ورکنگ پلان پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے سہ ماہی بنیاد پر اجلاس ہوگا، قریبی روابط کے ذریعے تعاون کو عملی شکل دیتے ہوئے آگے بڑھانا ہے۔
صدر ازبکستان کا پاکستان سے دفاعی و صنعتی تعاون بڑھانے پرزور
علاوہ ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے اپنے سرکاری دورہ پاکستان کے دوران سینئر وزرا کے ہمراہ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا دورہ کیا۔
اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معزز مہمان اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں ادارے کی مختلف سہولیات کا دورہ کرایا۔
دورے کے دوران صدر ازبکستان کو جی آئی ڈی ایس کے متنوع پورٹ فولیو پر بریفنگ دی گئی، جس میں جدید دفاعی حل، صنعتی صلاحیتیں اور تکنیکی اختراعات شامل تھیں۔
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان سے دفاعی و صنعتی تعاون بڑھانے پر زوردیا جب کہ وفد نے واہ گلوبل کے اہم پیداواری تنصیبات کا معائنہ کیا اور مختلف دفاعی مصنوعات کا مشاہدہ کیا، جو پاکستان کی مقامی دفاعی پیداوار اور صنعتی ترقی میں بڑھتی ہوئی مہارت کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ فریقین نے شراکت داری کے فروغ، علم و تجربے کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کے آغاز کی اہمیت پر زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے استحکام اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا ہے۔
ازبکستان کے صدر 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے
قبل ازیں ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے، جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نور خان ایئر بیس پر ازبکستان کے صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر معزز مہمان کو توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی استقبال کے موقع پر موجود تھے۔
بعدازاں ازبکستان کے صدر وہاں سے وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا اور کابینہ ارکان کا تعارف کرایا۔
معزز مہمان کی آمد پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور مسلح افواج کے چاق چوبند دستے نے ازبکستان کے صدر کو سلامی دی اور گارڈ آف آنر پیش کیا۔
پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی ازبکستان کے صدر کو فضائی سلامی
اس سے قبل پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے 6 رکنی دستے نے 5 فروری 2026 کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی شاندار سلامی پیش کی۔
مہمان نوازی اور بھائی چارے کے شان دار مظاہرے میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے معزز مہمان کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی فضائی حصار میں لیا اور فارمیشن لیڈر نے وزیر اعظم اور پاکستان کے عوام کی جانب سے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔
ازبکستان کے صدر کو دی گئی یہ فضائی سلامی دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کے عزم کا اظہار ہے۔
پاک فضائیہ کا پروقار فضائی استقبال جذبہ خیر سگالی کا ایک واضح مظہر تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور مشترکہ بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے۔