مریض کے مقعد سے عالمی جنگ کا گولہ برآمد ہونے پر اسپتال میں ہنگامہ
فرانس کے ایک اسپتال میں اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب ڈاکٹروں نے ایک مریض کے جسم کے اندر پہلی جنگِ عظیم کی توپ کا صحیح سلامت گولہ دریافت کیا۔ یہ گولہ 24 سالہ نوجوان کے جسم کے پچھلے حصے میں پھنسا ہوا تھا، جس کے بعد احتیاطی طور پر اسپتال کے بعض حصے خالی کرا لیے گئے۔
نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 24 سالہ فرانسیسی شہری شدید تکلیف کی حالت میں اسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ پہنچا۔
ابتدائی معائنے اور ہنگامی آپریشن کے دوران ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ مریض کے جسم کے اندر 1918 کا آٹھ انچ لمبا توپ خانے کا گولہ موجود ہے، جس پر فوری طور پر خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی، کیونکہ خدشہ تھا کہ یہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مریض شدید اذیت میں تھا، کیونکہ اس کے جسم میں ایک بڑی دھاتی شے داخل ہو چکی تھی۔
ہنگامی بنیادوں پر اس کا آپریشن کیا گیا، جس دوران معلوم ہوا کہ یہ شے پہلی جنگِ عظیم کے زمانے کا توپ خانے کا گولہ ہے۔
اس انکشاف کے بعد صورتِ حال کو انتہائی حساس سمجھتے ہوئے فوری حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ ڈاکٹروں نے پولیس اور بم ڈسپوزل یونٹ کو اطلاع دی۔
خدشہ تھا کہ یہ گولہ پھٹ سکتا ہے، جس کے باعث اسپتال کے احاطے کو خالی کروا لیا گیا اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
فائر بریگیڈ بھی موقع پرالرٹ رہی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ماہرین نے گولے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ اس سے فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، جس کے بعد بم ناکارہ بنانے والی ٹیم نے اسے محفوظ طریقے سے جسم سے باہر نکال لیا۔
خوش قسمتی سے یہ گولہ پھٹا نہیں تھا اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
آپریشن کے بعد مریض کو اسپتال میں ہی رکھا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہے اور اس کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اتنا خطرناک اور قدیم ہتھیار مریض کے جسم میں کیسے پہنچا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مریض سے تفتیش کی جائے گی۔
کچھ مقامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ کسی پارٹی کے دوران کیے گئے خطرناک مذاق کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
پراسیکیوٹرز اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ آیا مریض کے خلاف ممنوعہ ہتھیار رکھنے کے قانون کے تحت کارروائی کی جائے، کیونکہ پہلی جنگِ عظیم کے ایسے گولے خطرناک فوجی سازوسامان کے زمرے میں آتے ہیں۔
واضح رہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران جرمن افواج نے مغربی محاذ پر برطانیہ اور فرانس کے خلاف بڑی تعداد میں ایسے توپ خانے کے گولے استعمال کیے تھے، جن میں سے ایک گولہ اس غیر معمولی واقعے میں سامنے آیا۔