بلوچستان میں آپریشن ”رد الفتنہ ون“ مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی کے لیے شروع کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ”رد الفتنہ ون“ کو کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ آپریشن 29 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی کے مضافاتی علاقوں سے شروع کیا گیا تھا، جس کے پہلے مرحلے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کے دوران 41 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور مجموعی طور پر آپریشن کے دوران 216 دہشت گردوں کا ہلاک کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے سلیپر سیلز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا مکمل خاتمہ کیا گیا اور بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، بارود اور جدید سامان برآمد ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دہشت گردوں کو بیرون ملک سے لاجسٹک اور مالی معاونت بھی فراہم کی جا رہی تھی۔
واضح رہے کہ 31 جنوری کو کوئٹہ، گوادر، پنجگور، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، تمپ اور پسنی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جسے ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے 22 بہادر جوان شہید ہوئے جبکہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں میں خواتین اور بچوں سمیت 36 معصوم شہری بھی شہید ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آپریشن ”رد الفتنہ ون“ بلوچستان کے عوام کے امن اور ترقی کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک مسلح افواج اپنی کارروائیاں پوری قوت سے جاری رکھیں گی۔
دوسری جانب بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد معمول کی سرگرمیاں بحال ہونے لگی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، کوئٹہ سے ملک بھر کے لیے ٹرین سروس پانچ روز بعد بحال ہو گئی ہیں، جس کے بعد جعفر ایکسپریس اور چمن پیسینجر کو منزل کی طرف روانہ کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ جعفر ایکسپریس اور بولان میل اکتیس جنوری سے معطل تھیں۔
تاہم، صوبے کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس چھٹے روز بھی معطل ہے، جبکہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔