شائع 05 فروری 2026 10:02am

زینب کے بعد قصور میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ

قصور کے علاقے غربی بستی میں ایک اور انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں چار سالہ معصوم بچی ایمان فاطمہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے ایک گندے نالے میں پھینک دیا گیا۔

پولیس کے مطابق سفاک ملزمان نے بچی کو جان سے مارنے کی کوشش کی لیکن وہ زندہ بچ گئی۔ رات کے اندھیرے میں نالے میں پڑی رہنے والی اس بچی نے جب صبح ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کے بارے میں بتایا جس کے بعد اسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے لاہور کے جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ نے بچی کی نازک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے علاج کے لیے پروفیسر آمنہ کی سربراہی میں نو رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔

جنرل اسپتال کی ڈی ایم ایس ڈاکٹر انعم کا کہنا ہے کہ بچی اس وقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہے جہاں اس کے ضروری طبی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی اسے ذہنی صدمے سے نکالنے کے لیے کاؤنسلنگ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ایمان فاطمہ پر مبینہ تشدد اور زیادتی کے واقعے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے فوری طور پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ بچی کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مطابق قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے اور اس پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

سارہ احمد کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں بیورو کا عملہ مسلسل اس کے ساتھ موجود ہے تاکہ علاج، حفاظت اور دیکھ بھال کے تمام مراحل میں بچی اور اس کے خاندان کو سہارا دیا جا سکے۔

بیورو حکام کے مطابق متاثرہ بچی کے لیے قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے افسران، ماہرِ نفسیات، طبی عملہ اور تربیت یافتہ چائلڈ اٹینڈنٹس پر مشتمل ٹیم تعینات کی گئی ہے۔ ٹیم کا مقصد نہ صرف بچی کے فوری علاج کو یقینی بنانا ہے بلکہ اسے ذہنی صدمے سے نکالنے اور مستقبل میں بحالی کے عمل میں مدد فراہم کرنا بھی ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ڈائریکٹر جنرل راؤ ندیم اختر کی قیادت میں اعلیٰ افسران اور سائیکالوجسٹ نے اسپتال میں متاثرہ بچی سے ملاقات کی اور اس کی حالت سے آگاہی حاصل کی۔

بیورو حکام کا کہنا ہے کہ بچی کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے۔

چیئرپرسن سارہ احمد نے واضح کیا ہے کہ ایسے واقعات بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب بچوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور متاثرہ بچی کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ بیورو کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ متاثرہ بچی کی شناخت اور وقار کا مکمل خیال رکھا جائے گا اور اس کی بحالی تک ہر سطح پر معاونت جاری رہے گی۔

دوسری جانب پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

ایس پی انویسٹی گیشن ضیاء الحق نے بتایا کہ اس سنگین واقعے کی تحقیقات کے لیے تین خصوصی ٹیمیں بنا دی گئی ہیں جو مختلف پہلوؤں پر کام کر رہی ہیں۔

ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملزمان کو جلد ہی ڈھونڈ نکالیں گے اور وہ قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔

قصور میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر پرانی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں اور علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شہر میں درندگی سے بھرپور ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔

قصور ایک ایسا شہر ہے جو بظاہر پنجاب کے دیگر شہروں جیسا ہی دکھائی دیتا ہے، مگر حالیہ برسوں میں یہاں سامنے آنے والے جنسی تشدد کے واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں جنسی زیادتی کے واقعات بدقسمتی سے عام ہیں، قصور میں ہونے والے جرائم کی نوعیت اور شدت نے عوام کو خاص طور پر چونکا دیا ہے۔

سن 2015 میں قصور میں ایک بڑے بچوں کی فحش ویڈیوز کے اسکینڈل کا انکشاف ہوا تھا۔ صحافیوں اور پولیس نے ایک ایسے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو کم عمر بچوں، خاص طور پر لڑکوں، کی ویڈیوز بنا کر ان کے خاندانوں کو بلیک میل کرتا تھا۔ اس نیٹ ورک کے تحت چار سو سے زائد ویڈیوز بنائی گئیں۔

یہ انکشاف اس بات کی علامت تھا کہ مسئلہ صرف انفرادی جرائم تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری سماجی خرابی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

قصور کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ شناخت زینب قتل و زیادتی کیس سے ملی، جب جنوری 2018 میں سات سالہ زینب کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔

اس واقعے نے پورے ملک میں شدید غم و غصے کو جنم دیا اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر بحث کو تیز کیا۔

زینب کیس میں سزا یافتہ مجرم پر بعد ازاں یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ وہ کم از کم آٹھ دیگر بچوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی میں ملوث تھا، جس سے یہ سوال مزید گہرا ہو گیا کہ قصور میں ایسے جرائم بار بار کیوں سامنے آ رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق قصور کو دیگر علاقوں سے مختلف بنانے والی چیز جرائم کی بے رحمی ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا تھا یہاں ایسے سیریل ملزمان سامنے آئے ہیں جو متاثرین کو قتل کرنے کے بعد لاشیں پھینک دیتے تھے۔ یہ صرف جرم نہیں بلکہ انتہائی سفاک ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ قصور میں جنسی استحصال ایک خاموش حقیقت کے طور پر موجود رہا ہے۔

قصور میں زینب کیس کے بعد قوانین سخت ضرور ہوئے، مگر حالیہ واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا صرف قوانین کافی ہیں یا سماجی رویوں، آگاہی اور بچوں کے تحفظ کے عملی نظام کو بھی ازسرنو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

Read Comments