شائع 04 فروری 2026 01:06pm

عالمی کشیدگی کے اثرات، پاکستان میں سونا مزید مہنگا

بدھ کے روز عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔ اس اضافے کے اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑے ہیں، جہاں سونے کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔

موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کے نتیجے میں سونے نے حالیہ دنوں میں غیر معمولی تیزی دکھائی ہے۔

بدھ کو عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 148 ڈالر کے اضافے کے بعد 5 ہزار 64 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔

جس کے بعد پاکستان میں ایک تولہ سونا 5 لاکھ 29 ہزار 162 روپے پر پہنچ گیا جبکہ 10 گرام سونا 4 لاکھ 53 ہزار 671 روپے پر ٹریڈ کیا جا رہا ہے۔

یہ اضافہ 10 گرام کے حساب سے تقریباً 12 ہزار 689 روپے اور فی تولہ 14 ہزار 800 روپے کا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، خصوصاً امریکی بحری بیڑے کے قریب ایرانی ڈرون کو مار گرائے جانے کے واقعے نے سونے کی محفوظ حیثیت کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان عمان میں جوہری مذاکرات ہونے کی اطلاعات نے بھی مارکیٹ میں سنجیدگی پیدا کی ہے۔

سرمایہ کار اس وقت امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں، جہاں 2026 میں شرح سود میں کم از کم دو مرتبہ کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ کم شرح سود کا ماحول عموماً سونے کے لیے سازگار سمجھا جاتا ہے، جس سے اس دھات کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جاری جغرافیائی کشیدگی اور کم شرح سود کے اثرات کے باعث سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے اور سرمایہ کار اس موقع کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

Read Comments