اپ ڈیٹ 04 فروری 2026 11:44am

لیبیا کا مستقبل سمجھے جانے والے سیف الاسلام قذافی کون تھے؟

لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو مغربی شہر زنتان میں قتل کردیا گیا ہے۔ ان کی عمر 53 برس تھی۔

سیف الاسلام 2011 سے زنتان میں مقیم تھے، جہاں وہ پہلے قید رہے اور بعد ازاں 2017 میں رہائی کے بعد آزاد زندگی گزار رہے تھے، اسی دوران وہ سیاست میں واپسی کے امکانات پر بھی غور کر رہے تھے۔

سیف الاسلام قذافی کی موت کی تصدیق ان کے قریبی ساتھیوں نے کی ہے، جن میں ان کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان اور وکیل خالد الزیدی شامل ہیں۔

ان کی سیاسی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چار نقاب پوش افراد نے زنتان میں ان کے گھر میں داخل ہو کر انہیں قتل کیا۔ واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

سیف الاسلام قذافی کو 2011 کی عوامی بغاوت سے پہلے اپنے والد کا جانشین اور لیبیا کا دوسرا طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا تھا۔

عرب اسپرنگ کے دوران شروع ہونے والے احتجاج اور بعد میں خانہ جنگی میں بھی وہ ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آئے۔

اس دور میں ان پر اپنے والد کی حکومت کے مخالفین کے خلاف تشدد اور سخت کارروائیوں کے سنگین الزامات لگے۔

فروری 2011 میں انہیں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا اور ان کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

مارچ 2011 میں اقوام متحدہ کی اجازت کے بعد نیٹو نے لیبیا میں فضائی کارروائیاں شروع کیں، جن کا مقصد شہریوں کو قذافی فورسز سے تحفظ فراہم کرنا بتایا گیا۔

جون 2011 میں سیف الاسلام نے اعلان کیا تھا کہ ان کے والد انتخابات کے لیے تیار ہیں اور اگر وہ نہ جیتے تو اقتدار چھوڑ دیں گے، تاہم نیٹو نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور بمباری جاری رہی۔

جون کے اختتام پر بین الاقوامی فوجداری عدالت نے سیف الاسلام کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیا، لیکن وہ اس وقت تک آزاد رہے جب تک ان کے والد اور بھائی معتصم سرت میں مارے نہیں گئے۔

بعد ازاں آئی سی سی اور لیبیائی حکام کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ طے پایا کہ سیف الاسلام پر جنگی جرائم کے الزامات کے تحت لیبیا ہی میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

اس وقت ان کے وکلا نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ملک میں ہونے والا ٹرائل انصاف کے بجائے انتقام پر مبنی ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس تنازع میں تقریباً 15 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ لیبیا کی عبوری کونسل نے یہ تعداد 30 ہزار تک بتائی۔

2014 میں سیف الاسلام نے زنتان کی قید سے ویڈیو لنک کے ذریعے طرابلس کی عدالت میں پیشی دی۔

جولائی 2015 میں عدالت نے انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی۔

تاہم 2017 میں زنتان پر قابض ابو بکر الصدیق بٹالین نامی ملیشیا نے مشرقی لیبیا کی جانب سے دی گئی عام معافی کے تحت انہیں رہا کر دیا، حالانکہ یہ حکام بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ نہیں تھے۔

رہائی کے بعد سیف الاسلام کئی برس تک منظر عام سے غائب رہے اور بدستور بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب تھے۔

جولائی 2021 میں انہوں نے نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے لیبیا کی موجودہ قیادت پر انتخابات سے خوفزدہ ہونے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ دس برس تک عوام سے دور رہے ہیں اور سیاست میں واپسی کے لیے آہستہ آہستہ قدم رکھنا ضروری ہے۔

نومبر 2021 میں انہوں نے جنوبی شہر سبہا میں طویل عرصے بعد پہلی بار عوامی طور پر پیش ہو کر صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔

اس اقدام کو ان کے والد کے حامیوں کی سیاسی بحالی کی کوشش قرار دیا گیا۔

ابتدا میں انہیں نااہل قرار دیا گیا، بعد ازاں بحال تو کر دیا گیا، لیکن ملک میں دو متوازی حکومتوں کے باعث انتخابی عمل مکمل نہ ہو سکا اور لیبیا ایک بار پھر سیاسی تعطل کا شکار ہو گیا۔

سیف الاسلام قذافی مغربی تعلیم یافتہ اور شائستہ گفتگو کے حامل سمجھے جاتے تھے۔

انہوں نے 2008 میں لندن اسکول آف اکنامکس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جس کا موضوع عالمی حکمرانی میں سول سوسائٹی کا کردار تھا۔

وہ سیاسی اصلاحات کے حامی کے طور پر جانے جاتے تھے اور 2000 سے 2011 کے درمیان لیبیا اور مغرب کے تعلقات بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔

تاہم بعد میں لندن اسکول آف اکنامکس کو اس بات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ اس نے قذافی خاندان سے قربت اختیار کی، خصوصاً اس معاہدے پر جس کے تحت سیف الاسلام کی فلاحی تنظیم نے ان کے پی ایچ ڈی کے دن 24 لاکھ ڈالر کا عطیہ دینے پر اتفاق کیا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر سیف الاسلام نے کئی اہم مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا۔

انہوں نے امریکا اور برطانیہ سمیت مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات میں حصہ لیا۔

وہ لاکربی بم دھماکے، برلن نائٹ کلب حملے اور یو ٹی اے فلائٹ 772 کے متاثرین کے اہل خانہ کو معاوضہ دلانے کے عمل میں بھی شامل رہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے لیبیا میں قید غیر ملکی طبی عملے کی رہائی میں ثالثی کی۔

سیف الاسلام نے بعض غیر روایتی تجاویز بھی پیش کیں، جن میں فلسطین اور اسرائیل تنازع کے حل کے لیے ایک سیکولر واحد ریاست پر مبنی منصوبہ بھی شامل تھا۔

انہوں نے فلپائن حکومت اور مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی بھی کی، جس کے نتیجے میں 2001 میں ایک معاہدہ طے پایا۔

سیف الاسلام قذافی کی زندگی اصلاحات کے دعوؤں، اقتدار کے قریب رہنے، متنازع فیصلوں اور سیاسی واپسی کی کوششوں سے جڑی رہی۔

ان کے قتل نے ایک بار پھر لیبیا کے غیر مستحکم سیاسی اور سیکیورٹی حالات کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں ماضی کی شخصیات آج بھی حال پر گہرا اثر رکھتی ہیں۔

Read Comments